کراچی میں سکون

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی میں گزشتہ کئی برس سے جاری ٹارگٹ کلنگز کے سلسلے کو جیسے بریک سی لگ گئی ہے، اس کا سہرا کوئی سپریم کورٹ کے سر پر باندھ رہا ہے اور کوئی یہ اعزاز پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دیتا ہے، جنہوں نے کراچی کی صورتحال پر خصوصی اجلاس منعقد کیے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے چوبیس اگست کو کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگز کا از خود نوٹیس لیا، سپریم کورٹ کا خیال تھا کہ انتظامیہ لوگوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

چھبیس اگست کو اس از خود نوٹیس کی پہلی سماعت ہوئی، سندھ حکومت نے امن کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی رپورٹ پیش کی۔ جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدم اطمینان کا اظہار کیا، انہوں نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں سے ملاقات کرکے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

دو روز کے بعد سندھ کے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پریس کانفرنس کرکے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کردیا، انہوں نے ٹارگٹ کلنگز کے حوالے سے کئی انکشافات کیے اور متحدہ قومی موومنٹ کو اس میں ملوث قرار دیا۔

اگلے روز سپریم کورٹ میں سماعت تھی اور یہ مطالبات سامنے آنے لگے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو طلب کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انتیس اگست کو سپریم کورٹ کا بینچ کراچی پہنچ گیا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سماعت کے موقع پر ریمارکس دیئے کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس نے کس کو مارا، کس مقام پر مارا، کیوں مارا اور ملزمان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔

آئی جی سندھ واجد درانی نے ایک تحریری رپورٹ پیش کی جس کے مطابق دو ہزار سات میں قبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں لوگ کراچی آئے جس کے باعث شہر کی مختلف قومیتوں کے افراد کے اعداد و شمار میں تبدیلی آئی جس سے مسائل بڑھنے کے ساتھ لسانی تضاد میں اضافہ ہوا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل افتخار گیلانی نے پانچ ستمبر کو عدالت سے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو طلب کرنے کی درخواست کی، انہوں نے جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ کے کئی مندرجات پڑھ کر سنائے۔ چیف جسٹس نے اُن سے سوال کیا کہ کیا یہ رپورٹ حکومت تک نہیں نہیں پہنچی، گیلانی نے انہیں بتایا کہ حکومت کے پاس موجود ہے مگر اس پر کارروائی نہیں کرتی۔

اگلے روز چھ ستمبر کو سماعت کے موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساری رات جوائنٹ انٹروگیشن رپورٹ پڑہی ہے جو آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی گئی۔

سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل میں متحدہ قومی موومنٹ کو تخریب کاری کی مشینری قرار دیا۔ انہوں نے آئین میں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کسی تنظیم پر پابندی کے حوالے سے شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی جماعت پر پابندی ایک بڑی غلطی ہوگی۔

سات ستمبر کو جماعت اسلامی کے وکیل غلام قادر جتوئی نے عدالت میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرس کی سی ڈی پیش کرنا چاہی مگر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں۔

قوم پرست جماعت عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو نے اپنے دلائل میں ایم کیو ایم کو عالمی قوتوں کی ایجنٹ جماعت قرار دیا اور اس پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی۔

سپریم کورٹ نے آٹھ ستمبر کو متحدہ قومی موومنٹ کی فریق بننے کی درخواست قبول کرلی۔ بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات سیاسی وابستگی کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ تین باتیں ہیں جن کی وجہ سے حکام کام نہیں کرتے وہ نااہل ہیں، دانستہ طور پر کام نہیں کرتے یا جرائمہ پیشہ افراد چالاک ہیں۔

اس موقعے پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ساری جماعتوں کے پاس مسلحہ گروہ ہیں ان جماعتوں کے منشور دیکھیں تو ان میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔

نو ستمبر کو آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت کو بتایا کہ پولیس میں تیس سے چالیس فیصد اہلکار سیاسی ہمدردیاں رکھتے ہیں، جس کی تحیقات کی جارہی ہے ۔

ان ہی دنوں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے دس ستمبر کو پریس کانفرنس کی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں مہاجروں نے ہجرت کی انہیں پتہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کی بینچ کے کتنے لوگ نے ہجرت کا مزہ چکھا ہے۔

سپریم کورٹ نے پندرہ ستمبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ اس سے پہلے وفاقی حکومت کے وکیل سینیٹر بابر اعوان نے حتمی دلائل دیئے اور کراچی کی صورتحال کو مقامی اور بین الاقوامی سازش قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت مذاکرات، ترقی اور برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس حوالے سے تمام فریقین سے مذاکرات جاری ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت جو سیاسی مذاکرات کر رہی ہے اس سے ان لوگوں کو کیا فرق پڑے گا جن کے رشتے دار مارے گئے۔

اسی بارے میں