متحدہ: واپسی کا امکان؟

الطاف حسین کا ایک خطاب (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب متحدہ کیا فیصلہ کرے گی؟

اگرچہ بعض امور اب تک حل طلب دکھائی دیتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم حکمراں اتحاد میں متحدہ قومی موومنٹ کی ایک بار پھر شمولیت کے امکانات بھی روشن تر دکھائی دے رہے ہیں۔

اس سلسلے میں سردست دونوں جانب سے کوئی کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ رابطہ ہونے پر دونوں جماعتوں کے مختلف رہنما نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر جو باتیں کر رہے ہیں کم از کم اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ متحدہ حکومت میں واپسی پر راضی ہوجائے ۔

معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کے کئی رہنما اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق ان کی صدر زرداری سے ملاقات پاکستانی وقت کے مطابق بدھ رات نو بجے ہونی ہے۔

امکان ہے کہ اس ملاقات میں متحدہ قومی ممومنٹ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار، سابق وفاقی وزیر جہاز رانی و بندرگاہ بابر غوری، سندھ اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی رہنما رضا ہارون اور سندھ کے سابق وزیر صحت ڈاکٹر صغیر انصاری شامل ہوں گے جبکہ صدر آصف زرداری کی معاونت کے لیے وفاقی وزیر خورشید شاہ، سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان، صوبائی وزیر بلدیات آغا سراج درّانی شامل ہوسکتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ کے لیے بعض امور اب بھی حل طلب ہیں۔ مثلاً ہمارے کئی لوگ اب تک مختلف الزامات کے سلسلے میں زیر حراست ہیں، اور یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اب پیپلز پارٹی میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے یا ہوگی اور بھی کئی امور ہیں جن پر کوئی بات حتمی انداز سے واضح نہیں ہے، مگر پھر بھی اندازہ یہی ہے کہ شاید بدھ کی شام کو ہی ایم کیو ایم کی شمولیت کے بارے میں فیصلہ ہو جائے۔

سیاسی حلقوں کے بعض ذرائع جن کا تعلق دونوں جماعتوں سے نہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس بات کے اشارے بھی ملے ہیں متحدہ قومی موومنٹ کو اس بار حکومت میں شمولیت پر پہلے سے زیادہ وزارتیں دے دی جائیں۔ ایک تو صوبائی وزارت ٹرانسپورٹ ہوسکتی ہے۔ اس وقت وہ اختر جدون کے پاس ہے، لیکن متحدہ اگر حکومت کا حصہ بنتی ہے، تو ہوسکتا ہے کہ یہ وزارت اسے مل جائے۔

متحدہ کے ذرائع کے مطابق انہیں اپنے کارکنوں کی مختلف الزامات کے حراست پر اعتراضات ہیں مگر پھر بھی اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاتفریق کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایسے ہی الزامات کے تحت دیگر جماعتوں کے ارکان یا حمایت یافتہ افراد کو بھی اسی طرح گرفت میں لے کر تفتیش کی جاتی ہے تو صورتحال ہمارے لیے قابل قبول ہے جس پر الزامات ہیں ہمارے ہوں یا نہ ہوں، ان سب کے ساتھ قانون کے تحت برابری کا سلوک کیا جانا چاہیے اور جن پر الزام ثابت ہوتا ہے وہ قابل سزا ہوں گے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان کئی بار کشیدگی اور تین مرتبہ علیحدگی ہوچکی ہے اور آخری بار متحدہ نے جون میں اس وقت حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی جب پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں انتخابات کے موقع پر اختلافات سامنے آئے تھے۔

اس کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق صوبائی وزیر اور صدر زردای کے انتہائی قریبی دوست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی متحدہ مخالف شعلہ بیانی بھی کئی بار کشیدگی کی وجہ بنتی رہی۔

اسی بارے میں