لوڈ شیڈنگ کے خلاف دھرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آصف زرداری کا اقتدار ملک کے لیے کسی آفت سے کم نہیں، چوہدری نثار

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف جمعرات کو مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی پارلیمان سے ایوان صدر تک احتجاجی جلوس نکالیں گے اور دھرنا دیں گے۔

یہ اعلان انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا اور بتایا کہ ان کے احتجاج میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تلعق رکھنے والے بعض اراکین بھی ساتھ دیں گے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد نا اہل افراد کا ٹولہ اقتدار میں آ گیا ہے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی کوشش ہے کہ آئندہ بر س مارچ میں ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کی جائے کیونکہ اگر مارچ میں سینیٹ کے انتخابات موجودہ حکومت نے کرائے تو ایوانِ بالا میں پیپلز پارٹی اکیلی بڑی جماعت بن جائے گی۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر مارچ سنہ دو ہزار گیارہ میں سینیٹ کے انتخابات موجودہ اسمبلیوں سے ہوئے، جو کہ پیپلز پارٹی کے بقول ان کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، تو پھر نئی آنے والی حکومت کا پیپلز پارٹی کے بغیر چلنا مشکل ہوجائے گا۔

چوہدری نثار علی خان نے حسبِ معمول حکومت کی بجائے اپنی تنقید کا ہدف صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو بنائے رکھا اور کہا ’آصف زرداری کا اقتدار ملک کے لیے کسی آفت سے کم نہیں۔‘

انہوں نے کہا ’کہنے کو تو یہ جمہوری حکومت ہے لیکن اس کا کوئی عمل جمہوری نہیں ہے، ملک میں جاری لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے اور یہ ان کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔‘

انہوں نے بلوچستان میں دو مختلف وارداتوں میں تین درجن کے قریب شیعہ مسلک کے افراد کے قتل پر پیپلز پارٹی کے رکِن قومی اسمبلی ناصر شاہ کے احتجاج کی حمایت کی اور کہا کہ وہ ایوانِ صدر کے باہر دھرنے میں کل ان کے ساتھ ہوں گے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں گزشتہ پیر سے توانائی کے بحران پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ حکومت کی ترجیح عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا نہیں بلکہ مال بنانا ہے۔ان کے بقول مرکزی حکومت پنجاب حکومت کو سزا دے رہی ہے۔

فرح ناز اصفہانی اور دیگر حکومتی اراکین نے بدعنوانی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لوڈشیڈنگ پورے ملک میں ہے لیکن مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب کی بات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ پنجاب میں بجلی کمپنیوں کے دفاتر کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلم لیگ (ن) عوام کو اکسا رہی ہے کیا وہ قومی املاک نہیں ہیں‘۔

حکومتی رکن فوزیہ وہاب نے مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کے اس بیان پر احتجاج کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک سے زیادہ زرداری نیٹ ورک سے خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی سابق حکومت نے اٹھارہ ہزار میگا واٹ کے بجلی پیدا کرنے کے جو معاہدے کیے وہ میاں نواز شریف نے منسوخ کیے اور بجلی کے بحران کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

حکومتی اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کی بشریٰ گوہر نے بھی حکومت پر تنقید کی جس پر آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ ہو یا کوئی اور معاملہ اس کی ذمہ داری صرف پیپلز پارٹی پر نہیں بلکہ حکومت میں شامل تمام جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ’حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے علاوہ حکومت کے اتحادی بھی مایوس ہوگئے ہیں اور وہ استعفے پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی ناصر شاہ خود حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اہم عہدوں پر بیٹھے لوگ قومی ایجنڈا کے بجائے ذاتی ایجنڈا کو اہمیت اور ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی کے اراکین کو اپنی قیادت کے غلط فیصلوں کے خلاف بولنا چا ہیے ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم ان کے حلقہ انتخاب میں آئے لیکن انہیں نہیں بلایا گیا، میں نے وزارت چھوڑی ہے پارٹی نہیں۔

پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر سید نوید قمر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ تین ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں آچکی ہے اور لوڈشیڈنگ میں کمی کردی گئی ہے۔ ان کے بقول دو ہزار میگا واٹ مزید بجلی آئندہ چھتیس گھنٹے میں سسٹم میں آ جائے گی اور صورتحال بہتر ہوگی۔

نوید قمر کے بیان کو رد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ارکین نے احتجاج کرت ہوئے ’چور چور‘ اور ’ڈاکو راج نامنظور‘ کے نعرے لگاتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

اسی بارے میں