نظر بند آفاق احمد پھرگرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آفاق احمد کے خلاف یہ مقدمہ سنہ دو ہزار نو میں درج کیا گیا تھا۔

کراچی میں پولیس نے مہاجر قومی موومنٹ (یعنی ’حقیقی‘ گروپ) کے زیرحراست سربراہ آفاق احمد کو عدالتی حکم پر باقاعدہ گرفتار کرلیا ہے لیکن صوبائی محکمۂ داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر حراست میں لیا جانا ’گرفتاری ہے یا نہیں یہ فیصلہ عدالت کرے گی۔‘

آفاق احمد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دس برس قبل کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا ہے۔

اٹھائیس ستمبر کو انتظامیہ کے حکم پر آفاق احمد کو نقصِ امن کے قانون یعنی مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈینینس (ایم پی او) کے تحت لانڈھی جیل میں نظر بند کردیا گیا تھا جب وہ اپنے خلاف درج تمام مقدمات میں ضمانت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر رہا ہونے والے تھے۔

تقریباً بیس برس پہلے متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدگی اختیار کرکے مہاجر قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم حقیقی بنانے والے آفاق احمد اپنے خلاف درج سیاسی کارکنوں یا ان کے رشتہ داروں کے قتل، اقدام قتل، اغواء، غیر قانونی اسلحہ اور تشدد کے واقعات کے کئی مقدمات کے تحت دو ہزار چار سے جیل میں ہیں۔

یہ مقدمہ کراچی کے کورنگی تھانے کی حدود میں چھ مئی سنہ دو ہزار ایک کو اغواء برائے تاوان کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مقدمے میں شاہ فیصل کالونی کے رہائشی نے تقریباً دس برس قبل درج کروایا تھا۔

اس مقدمے میں نامزد دو ملزمان عدالت سے بری ہوچکے ہیں۔ اس مقدمے میں دو نامعلوم ملزمان میں سے ایک کو اب آفاق احمد شناخت کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ نامعلوم ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ کسی مفرور ملزم کو صرف گرفتاری کی صورت میں ہی عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہتھکڑی نہ بھی لگائی جائے تو بھی جس لمحے پولیس اہلکار کسی مفرور ملزم کو چھو لے، وہی گرفتاری ہوتی ہے۔۔۔‘

لیکن صوبائی محکمۂ داخلہ کے ذرائع نے زیادہ تکنیکی انداز اختیار کیا۔ رابطہ کرنے پر وزارت داخلہ کے ایک اعلٰی افسر نے بھی نام ظاہر نہ کرنے ہی کی شرط پر بتایا کہ عدالت کے حکم پر انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

جب اس افسر سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ گرفتاری نہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے (پولیس) نے عدالت کے پوچھنے پر بتایا کہ عدالت نے ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے، وارنٹ جاری کئے ہیں تو ہمیں اجازت دی جائے کہ ملزم کو گرفتار کیا جاسکے۔ تو عدالت نے جواباً کہا ہے کہ پیش کریں۔ ملزم عدالت کو مطلوب ہے۔ پولیس عدالت کے پاس گئی کہ ملزم جیل میں ہے۔ ہمیں اجازت دی جائے کہ اسے گرفتار کرسکیں تو عدالت نے کہا کہ اسے پیش کیا جائے۔ اب یہ گرفتاری ہے یا نہیں، یہ فیصلہ عدالت کرے گی۔‘

اسی بارے میں