’پاکستان کےتین اور کھلاڑی بھی ملوث ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

استغاثہ نے ’سپاٹ فکسنگ‘ کےمقدمے کی سماعت کرنےوالی عدالت کو بتایا ہے کہ پاکستان کے مزید تین کھلاڑی بھی مبینہ طور سپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے۔

لندن کی سدتھوارک رائل کورٹ دو پاکستان کھلاڑیوں، سلمان بٹ اور محمد آصف پر سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔ سماعت کے دوران استغاثہ نے الزام لگایا کہ پاکستان ٹیم کے دیگر تین کھلاڑی، وکٹ کیپر کامران اکمل، مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل اور فاسٹ بولر وہاب ریاض بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے۔

نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر پر الزام تھا کہ وہ بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث تھے۔

ایک برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے سلمان بٹ، محمد آصف اور نوجوان کھلاڑی محمد عامر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر پہلے سے متعین اوورز میں نو بال پھینکے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی تھی۔

استغاثہ نے دعویٰ کیا ہےکہ ایجنٹ مظہر مجید نےاپنی شناخت چھپا کر کام کرنے والے رپورٹر مظہر محمود کو بتایا تھا کہ پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی ان کے کنٹرول میں ہیں جو فکسنگ کے معاملات پر ان کی ہدایت پر عمل کریں گے۔

عدالت کےسامنے 2010 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز کے میدان میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں ہونے والی مبینہ میچ فکسنگ کا معاملہ زیر غور ہے لیکن سماعت کے دوران عدالت کے سامنے اوول ٹیسٹ کے دوران ملنے والی شہادت پیش کی جا رہی ہے۔ اس میچ میں پاکستان کی ٹیم نے انگلینڈ کو ہرا دیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اپنی شناخت چھپا کر کام کرنے والے نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹر نے سلمان بٹ اور ایجنٹ مظہر مجید کے مابین پہلے اوور کو میڈن کھیلنے کے معاہدے کو ریکارڈ کیا تھا۔

ایجنٹ مظہر مجید نیوز آف دی ورلڈ رپورٹر کے سامنے سلمان بٹ سے ٹیلیفون پر معاملات طے کرتے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ رپورٹر نے اپنے آپ کو انڈیا کی ایک کاروباری شخصیت محسن خان کے طور پر متعارف کروایا تھا اور اس میچ کچھ حصے فکس کرنے کے عوض دس ہزار پاونڈ ایجنٹ مظہر مجید کو ادا کرنے کے رضامندی ظاہر کی لیکن وہ چاہتے تھے کہ ایجنٹ ثابت کرے کہ کھلاڑی ان کے کنٹرول میں ہیں اور وہ ایسا ہی کریں گے جیسا انہیں بتایا جائے گا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جب نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹر نے کہا کہ کھلاڑی ٹیلیفون کال کے دوران سخت نیند میں معلوم ہوتا ہے تو ایجنٹ نے کہا:’یقین کرو کہ وہ پہلے کئی بار ایسا ہی کر چکا ہے اور وہ بلکل بااعتبار ہے۔

سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف نے انکار کیا ہے کہ انہوں نے رقم کےعوض کھیل کی شہرت اور عزت کو داؤ پر لگایا۔

عدالت کو اوول ٹیسٹ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جس میں پاکستان نے انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دی تھی۔

جیوری کو ایجنٹ مظہر مجید اور سلمان بٹ کے مابین مئی میں ٹیکسٹ پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گے جس میں وہ مبینہ طور پر ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانےوالے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں میچ فکسنگ کے حوالے بات کر رہے ہیں۔

ایک ٹیکسٹ میسج میں ایجنٹ مظہر مجید سلمان بٹ کو بتاتے ہیں کہ یہ تب ہی ممکن ہوگا اگر آپ پہلے دو اووروں میں وکٹ گنوائے بغیر سکور بنائیں۔

اسی بارے میں