اسامہ کمیشن: غداری کے مقدمہ کی سفارش

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ہوا۔

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اسامہ کے کمپاؤنڈ کی جاسوسی کرنے اور امریکی حکام کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے۔

جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن کا اجلاس جمعرات کو ہوا جس میں سابق آئی جی عباس خان، اشرف جہانگیر قاضی اور لیفٹینٹ جنرل (ر) ندیم احمد نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے تفصیلی انٹریو کیا اور اس کے بعد کچھ فیصلے کیے۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ کے مطابق، کمیش اس بات کی تحقیق کر رہا ہے کہ امریکی فوجی کسی طرح ملک کے اتنے اندر آ کر کارروائی کر کے واپس چلےگئے اور کسی کو اس بارے میں پتہ تک نہیں چلا۔ اس کے علاوہ وہ ان حقائق کو جاننے کی کوشش بھی کر رہا ہے کہ کس طرح اسامہ بن لادن اتنے عرصے تک ایبٹ آباد میں روپوش رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی فوجی کمانڈوز نے رواں برس دو مئی کو چھاپہ مار کارروائی میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے اسامہ بن لادن کی بیواؤں اور بیٹیوں سے تحقیقات کی اور اب کمیشن کو مزید تحقیقات کے لیے ان کی ضرورت نہیں ہے۔

پریس بیان میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ اور شواہد کی روشنی میں کمیشن نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف ریاست سے بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے اور کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے مقامی قانون کے مطابق یہ مقدمہ درج کریں۔

تحقیقاتی کمیشن نے ایبٹ آباد میں موجود اسامہ بن لادن کے مبینہ کمپاؤنڈ کو علاقے کی سول انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو کہا تاکہ قانون کے مطابق اس بابت کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ تحقیقات کرنے والے کمیشن نے بدھ کو اسامہ کی تین بیویوں اور دو بیٹیوں کے بیانات قلمبند کیے تھے۔

اس کمیشن نے اس پاکستانی ڈاکٹر کا بیان بھی قلمبند کیا تھا جس نے مبینہ طور پر ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی کے بارے میں امریکیوں کی مدد کی تھی۔

پاکستان کے حکام نے اسامہ کی ہلاکت کے بعد اسامہ کے خاندان کے افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ پاکستان ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔

اسی بارے میں