کام کم اور اشتہار زیادہ

اخباری اشتہارات
Image caption مبصرین کا کہنا ہےکہ میڈیا پر لڑائی کے بجائے اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہی رقم اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر لگاتیں تو کچھ نہ کچھ بہتری ہو سکتی تھی۔

وفاقی حکومت نے بجلی کے بحران اور پنجاب حکومت نے ڈینگی وائرس کے خلاف اخباری اشتہاری مہم جاری کر رکھی ہے اور اب تک اس مہم کے سلسلے میں کروڑوں روپے کے اشتہارات پاکستان کے قومی اور مقامی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین اشتہار پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے جاری کیا ہے اور اس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی نوید سنائی گئی ہے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کا کہنا ہے کہ بجلی کے بحران کی وجہ سے پنجاب کے بعض شہروں اور دیہاتوں میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا ہو رہی ہے۔ پورے پنجاب میں جگہ جگہ پرتشدد مظاہرے ہو چکے ہیں۔

پنجاب کی حکمران مسلم لیگ نون نے اپنے کارکنوں سے ان احتجاجی مظاہروں میں شریک ہونے کی اپیل کی تھی۔

وفاقی حکومت نے بعض اخبارات کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے اشتہارات میں بجلی کے بحران کے بارے میں سرخی لگائی ’بجلی بحران کے چند تاریخی حقائق‘ اور تفصیلات میں لکھا کہ بےنظیر بھٹو کے توانائی کے بڑے منصوبوں اور پرائیوٹ پاور پالیسی کی مخالفت کی گئی اور حالیہ حکومت کی بیرونی سرمایہ کاری کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ اشتہار میں کہا گیا کہ بجلی کی پیداوار چھتیس گھنٹوں میں ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بڑھائی گئی ہے۔

وفاقی حکومت کے وزراء نے مسلم لیگ نون کی بجلی کے بحران پر تنقید کا برا مناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے پنجاب میں مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والے جان لیوا ڈینگی بخار کا خاتمہ کریں۔

سرکاری اعدود و شمار کے مطابق اب تک کوئی دو سو افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں اور بیس ہزار کے قریب متاثرین ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مچھروں کی پیدائش اور افزائش کی روک تھام کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس کے لیے میڈیا پر ایسی اشتہاری اور صحافتی مہم چلائی کہ وہ خود ایک ہیرو لگنے لگے ہیں۔

ان اشتہارات اور خبروں میں کہیں وزیر اعلی پنجاب کو صفائی کرتے دکھایا گیا تو کہیں یہ بتایا گیا کہ انہوں نے پلٹ لٹس الگ کرنے والی پانچ مشینیں درآمد کر لی ہیں۔ پنجاب حکومت ڈینگی کے بارے میں اخبارات کے اول صفحات پر قیمتی اشتہارات جاری کرچکی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ میڈیا پر لڑائی کے بجائے اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہی رقم اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر لگاتیں تو کچھ نہ کچھ بہتری ہو سکتی تھی۔