سندھ ’متاثرین فاقہ کشی کا شکار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوام متحدہ کے ادارے برائےمہاجرین یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں بعض متاثرین فاقہ کشی کا شکار ہیں جن کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں ہے اور وہ آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے۔

یو این ایچ سی آر کی طرف سےجمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کےمطابق سندھ میں سیلاب سے بےگھر ہونے والے کئی افراد ابھی تک غیر یقینی کی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان تک امداد نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

حکومت کو عوام کی داد رسی کرنا ہو گی‘

’امداد میں تاخیر، بھوک سے مرنے کا خدشہ‘

یو این ایچ سی آر میں کہا گیا ہے کہ سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرین سڑکوں کے کنارے عارضی سائبانوں میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ سیلاب سے زیر آب علاقے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں کی افزائش نسل کے میدان بن چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائےمہاجرین سندھ کےسربراہ اسلم داخلیوف کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ متاثرہ خاندانوں کو خیمے اور امدای سامان فراہم کر رہے ہیں مگر ان کے پاس بنیادی چیزوں کا فقدان ہے ۔

رپورٹ کے مطابق ایک ماہ تک سندھ اور بلوچستان کےعلاقوں میں مسلسل بارشوں کے باعث یو این ایچ سی آر کے مطابق ستر لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور چار سو سے زائد زندگیاں گنوا بیٹھے۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق سڑکیں زیر آب آنے کی وجہ سے متاثرین تک امداد کی رسائی کی رفتار سست رہی۔ سڑکوں کی خراب صورتحال کی وجہ سے رضاکاروں کو متاثرین تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ ادارے کے مطابق متاثرین چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں رہتے ہیں جن میں سے کئی اپنا قیمتی مال مویشی چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں تھے۔

یورپی کمیشن فار ہیومینٹیرین ایڈ ڈیپارٹمنٹ کی لارس اؤبر کا کہنا ہے کہ حکومت اور ادارے متاثرین کی مدد کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں مگر پھر بھی ایک خلا موجود ہے۔’ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امداد کی فراہمی کسی قاعدے قانون کے تحت شفاف طریقے سے کی جائے۔‘

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ سیلاب کا پانی آنے والے چند ماہ میں کم ہونا شروع ہوجائےگا مگر امدادی اداروں کو موسم سرما کے آنے کے بعد نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں