’معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صوبائی حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کے بارہ وزیر شامل ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کی وفاقی و سندھ حکومت میں واپسی کے بعد ملنے والے اشاروں سے یہی تصویر ابھر رہی ہے کہ ایم کیو کا حکومتِ سندھ میں وہی حصّہ برقرار رہے گا جو حکومت سے علیحدگی کے وقت تھا۔

سندھ کابینہ میں اس وقت پینتالیس وزارتیں، پانچ مشیر اور پندرہ معاونین خصوصی شامل ہیں۔

ایم کیو ایم دوبارہ حکومت میں شامل

پینتالیس وزارتوں میں سے ایک یعنی ورکس، سروسز اینڈ فورسٹ (ترقیاتی امور، خدمات و جنگلات) کی وزارت میں کوئی وزیر نہیں ہے۔

صوبائی حکومت میں حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے اٹھائیس، متحدہ قومی موومنٹ کے بارہ جبکہ دیگر جماعتوں میں مسلم لیگ قاف کا ایک، مسلم لیگ فنکشنل کا ایک عوامی نیشنل پارٹی کا ایک اور نیشنل پیپلز پارٹی کا ایک وزیر شامل ہے۔

صوبائی مشیروں کی تعداد پانچ ہے جن میں تین کا تعلق پیپلز پارٹی، ایک کا ایم کیو ایم اور ایک کا مسلم لیگ فنکشنل سے ہے۔

اب حکومتی شخصیات اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جانب سے ملنے والے اشارے یہی ہیں کہ کابینہ میں یہی تناسب برقرار رہے گا۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایک شحضیت کے مطابق یہ ابھی طے نہیں کیا گیا کہ ان وزارتوں پر متحدہ قومی موومنٹ کی واپسی کا اعلان باقاعدہ طور پر کب ہوگا اور اگر ہوگا تو تو کون کرے گا؟ کیا وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ایسا کریں گے؟ ابھی تک ایسی کوئی بات طے نہیں ہوئی۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے ایک سرکردہ رہنماء کا کہنا ہے کہ معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے اور ایم کیو ایم کو وہی تمام حصّہ واپس ملے گا جو حکومت سے علیحدگی سے پہلے اس کے پاس تھا۔

اسی بارے میں