دھرنے سے حکومت گرانے کی کوشش کا آغاز

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احتجاج کے دوران پنجابی زبان میں نعرے بازی کی گئی

پاکستان میں پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت کو ہٹانے کے لیے، حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) کے اراکین پارلیمان نے جمعرات کو قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور جلوس کی شکل میں ایوان صدر کے باہر پہنچ کر دھرنا دیا۔

قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنماء چوہدری نثار علی خان نے الزام لگایا کہ حکومت تمام شعبوں میں ناکام ہوگئی ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے بدعنوانی کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے دھرنے میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیامینٹیرینز کے علاوہ کچھ کارکن بھی شریک ہوئے لیکن ان کی تعداد کم تھی۔ گرمی کی وجہ سے شرکاء پسینے سے شرابور تھے اور حمزہ شہباز ایک فائیو سٹار ہوٹل کے ٹشو سے پسینہ پونچھتے رہے۔

دھرنے میں آفتاب شیرپاؤ، جمیعت علماء اسلام (ف) کے مولانا عبدالمالک اور اس جماعت کے اپنے دھڑے کے مولانا عصمت اللہ، مسلم لیگ ہم خیال کے سلیم سیف اللہ اور حکمران پیپلز پارٹی کے کوئٹہ سے منتخب رکن اسمبلی سید ناصر علی شاہ شریک ہوئے۔

دھرنے کے شرکاء نے حکومت اور بالخصوص صدر آصف علی زرداری کے خلاف پنجابی میں بھرپور نعرے لگائے۔ ’مک گیا تیرا شو زرداری۔۔۔ ہن کلا بہہ کے رو زرداری‘ یعنی زرداری تیرا وقت پورا ہوگیا اب اکیلے بیٹھ کر روئیں زرداری۔‘ گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت انہیں طعنہ دیتی ہے کہ وہ تنہا ہوگئے ہیں لیکن وہ حکمرانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو جماعتیں ہیں وہ اقتدار اور ذاتی مفاد کی وجہ سے ہیں جبکہ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) کا حزب مخالف کی دیگر جماعتیں عوامی مفاد کی خاطر ساتھ دے رہی ہیں۔

جلوس میں شریک مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سینیٹر مشاہداللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا یہ احتجاج ملک کی گلی محلوں میں پھیل جائے گا اور حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ حکومت کو ہٹانے کے لیے آئینی راستہ اختیار کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ احتجاج بھی غیر آئینی راستہ نہیں ہے۔

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اس بیان جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ سال مارچ میں سینیٹ کے انتخابات سے مسلم لیگ خوفزدہ ہے اس لیے احتجاج کر رہی ہے تو مشاہداللہ نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھرنے کے شرکاء نے کتبے بھی اٹھا رکھے تھے۔

عام طور پر سیکورٹی کی وجہ سے شاہراہ دستور سے ایوان صدر جانے والی سڑک پر کسی کو جانے نہیں دیا جاتا اور وہاں ہر وقت پولیس تعینات رہتی ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کے جلوس کو پولیس نے نہیں روکا اور وہ با آسانی آگئے۔ لیکن ایوان صدر کے صدر دروازے سے قبل ہی سڑک پر نصب دروازہ بند کردیا گیا تھا اور جلوس نے وہیں دھرنا دیا اور تپتی دھوپ کی وجہ سے کچھ دیر بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

جلوس کے شرکاء سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی تعداد زیادہ نظر آئی۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں نے کہا کہ یہ پارلیامینٹیرینز کا دھرنا تھا اور کارکنوں کو شرکت کے لیے نہیں کہا تھا۔

دھرنے کے شرکاء نے کتبے بھی اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف نعرے درج تھے۔ ایک کتبے پر لکھا تھا ’حکومت ہٹاؤ ملک بچاؤ‘۔

اسی بارے میں