کھدڑے فقیر کی فیملی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صرف نواز شریف کے دور میں ہنجڑوں کو نقد امداد ملی تھی

فقیر نور جہاں، فقیرگڈی ، فقیر انیسہ ، فقیر صنم ، فقیر سونا اور فقیر روشن بدین شہر کے ایک محلے میں درمیانے درجے کے مکان میں رہتی یا رہتے ہیں۔صحن کے تین اطراف کمرے ہیں۔ ہر ایک کے دروازے پر مکین کا نام کھدا ہے۔ صحن میں دو چارپائیاں بچھی ہیں۔ لمبی سی رسی پر جازبِ نظر رلیاں لٹک رہی ہیں۔ فقیر روشن تھرپارکرگئی ہوئی ہے اور انیسہ نے کمرے سے جھانک کر اجنبیوں کو دیکھا اور پھرگردن اندر کرلی۔ صرف سر پر مہندی لیپنے والی گڈی اور عینک والی نورجہاں بات کرنے پر آمادہ ہیں۔

آسمان نے ان فقیروں میں بھی اتنی ہی بارش تقسیم کی جتنی بدین کے عام مردوں، عورتوں اور بچوں میں۔ انہیں بھی مدد کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کسی اور متاثر کو۔ پھر بھی نہ تو یہ فقیر کسی امداد بانٹنے والے کو دکھائی دیے اور نہ ہی کسی امدادی پر ان کی نگاہ ٹھہر سکی۔

نورجہاں نے بتایا کہ جب بدین میں شدید بارشیں ہوئیں تو اس گھر کےمکیں تھر کے شہر ڈیپلو کی جانب نقل مکانی کرگئے۔ گھر چھوڑنے پر بھی بارش نے پیچھا نہ چھوڑا۔ ڈیپلو میں بھی وہی ہوا جو زیادہ لوگوں میں کم خوراک بٹنے کے سبب ہوتا ہے۔ دو تین کیلو آٹے کے پیچھے مارکٹائی ہوجاتی۔ ویسے بھی بارہ پندرہ لوگوں میں تین کیلو آٹا کیا کرلیتا۔ چنانچہ تنگ آ کے ہم پھر بدین واپس آگئے۔

’اب جہاں بھی امداد کے لیے جائیں تو افسر کہیں بابا ہم پہلےصرف فیملی والوں کو امدادی ٹوکن دے رہے ہیں۔آپ کی فیملی ہے کیا؟ ہم نے پوچھا کہ آپ کھدڑے فقیر ہوتے تو کیا آپ کی فیملی ہوتی کیا ؟ اس پر وہ کہتے ابھی بحث کا ٹائم نہیں کل آنا ، پرسوں آنا، ترسوں آنا۔ اللہ محلے والوں کو جیتا رکھے جنہوں نے اپنے راشن میں سے آدھا ہمیں دے دیا تاکہ اس چولہے سے بھی دھواں اٹھتا رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہم جیسی گیلی لکڑیاں رہ گئیں جو نہ جلتی ہیں نہ سوکھتی ہیں:گڈی

گڈی نے بتایا کہ ہمارا ایک فقیر ایک امدادی تنظیم کے دفتر تک گیا تھا لیکن اس پر وہی لوگ فقرے اور سیٹیاں اچھالنے لگے جو خود امداد لینے آئے تھِے۔ پھر اتنی بھگدڑ مچی کہ چھت آ گری اور فقیر خالی ہاتھ زخمی واپس آگئی۔

نورجہاں نے کہا کہ صرف نواز شریف کے دور میں ہمیں ایک دفعہ نقد امداد ملی تھی اس کے بعد کبھی نہیں ملی۔ پہلے ہم سمن سرکار، سجن ساول، ساون فقیر اور غلام شاہ فقیر کے میلوں کا انتظار کرتے تھے۔ لواری شریف جانے کی آس میں رہتے تھے تاکہ وہاں ناچ گا کر اور دعائیں دے کر کچھ حاصل وصول ہوجائے۔مگر ابھی تو یہ اولیا بھی ڈوبے پڑے ہیں۔

بچے آج بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔لیکن ہمیں خود بچوں والوں کے پاس دعا ، بدھائی اور مبارک دینے کے لئے جانے کا سوچ سوچ کر شرمندگی ہوتی ہے۔ جب فصل ہی ڈوب گئی اور ان کے پاس خود بھی کچھ نہیں بچا تو ہمیں کیا دیں گے بھلا۔

گڈی نے بتایا کہ پہلے لوگ کہتے تھے کہ کھدڑے فقیر کی دعا فوراً ساتویں آسمان پر سنی جاتی ہے۔ ہم نے بھی اپنے بڑوں سے سنا تھا کہ فقیر کی دعا سے سوکھا ہرا ہوجاتا تھا اور چلتی بارش رک جاتی تھی ۔اب تو وہ لوگ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے اور ہم جیسی گیلی لکڑیاں رہ گئیں جو نہ جلتی ہیں نہ سوکھتی ہیں۔

نورجہاں نے کہا کہ آج کل کچھ اچھا نہیں لگتا ہے نہ گانا ، بجانا، نہ ناچنا! جب ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آتا تو سب مل کر نعت شروع کردیتے ہیں۔

گڈی اور نورجہاں نے اندر بیٹھی انیسہ کو آواز دی اور فضا کورس سے بھرگئی۔

’مدد کر اساں جی خدا جا رسول۔‘

میں نے ان فقیروں تک پہنچانے والے ایک مقامی این جی او کے رکن محمد خان سے پوچھا کہ اب آپ کیا کہتے ہیں؟ کہنے لگے میں پچھلے ایک ماہ کے دوران تقریباً پچاس کیمپوں میں گیا لیکن ایک بھی کھدڑا فقیر نظر نہیں آیا۔اگر یہ لوگ وہاں جانا بھی چاہیں تو نہ کیمپ میں موجود لوگ آرام سے رہ سکیں گے اور نہ ہی یہ فقیر ان کی نظروں کا مقابلہ کرسکیں گے۔ اس لیے یہ سامنے بھی نہیں آتے۔ زیادہ تر این جی اوز کسی خاص علاقے یا کمیونٹی میں سرگرم ہوتی ہیں۔ ان فقیروں کی تعداد اتنی کم ہے کہ یہ کسی بھی این جی او کے ریڈار پر نہیں ہیں۔

ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ کھدڑے فقیر کی بددعا عرش ہلا دیتی ہے۔ لیکن شائد عرش کے پاس بھی ان دنوں ہلنے کی فرصت نہیں۔

اسی بارے میں