لاہور میں صحافی کا قتل

Image caption پاکستان میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔

لاہور میں نامعلوم افراد نے ایک آن لائن اخبار سے منسلک صحافی کو قتل کر دیا ہے۔

لندن پوسٹ نامی آن لائن اخبار نے یہ خبر شائع کی تھی کہ ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین کو مبینہ طور لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پرجنوبی افریقہ جاتے ہوئے روک لیا گیا تھا۔

تاہم اس خبر کی کسی ریاستی ادارے نے تصدیق نہیں کی تھی۔

مقتول صحافی فیصل قریشی کے بھائی ڈاکٹر شاہد قریشی نے میڈیا کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں اور مقتول فیصل قریشی کو چند روز پہلے کراچی میں اثر و رسوخ رکھنے والی ایک سیاسی تنظیم کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملی تھیں۔

فیصل قریشی کی لاش لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن سے ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ ان کا گلا کٹا ہوا تھا اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔

فیصل قریشی لندن سے شائع ہونے والے آن لائن اخبار لندن پوسٹ کے پاکستان میں ایڈیٹر اور ویب ڈویلپر تھے۔

اٹھائیس سالہ فیصل قریشی جوہر ٹاؤن میں اپنے گھر میں اکیلے رہتے تھے۔ مقتول کے بھائی کے مطابق وہ کل شام انہیں ملنے گئے لیکن دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ پولیس کی مدد سے تالا کھلوایا گیا تو فیصل قریشی کی گلہ کٹی لاش ملی۔

لاہور میں صحافتی تنظیموں نے اسے ٹارگٹ کلنگ قرار دیا ہے۔ لاہور پریس کلب کے سیکرٹری اعظم چودھری کا کہنا ہے کہ فیصل قریشی کا قتل صحافیوں کے خلاف جاری تشدد کی ایک کڑی ہے۔ اعظم چودھری نے مطالبہ کیا کہ فیصل قریشی کے قتل کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔

جوہر ٹاؤن پولیس نے مقتول کے بھائی زاہد قریشی کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے تفتیشی افسروں کا کہنا ہے کہ فی الحال کسی پر ان کے قتل کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں