بگٹی کیس: مشرف کے وارنٹ کی کوشش

اکبر بگٹی
Image caption نواب اکبر بگٹی چھبیس اگست دو ہزار چھ کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔

حکومتِ بلوچستان نے ممتاز بلوچ قوم پرست رہنماء نواب اکبر بگٹی قتل کیس کے سلسلے میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی کی گرفتاری کے لیے بھی سندھ حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق چیف سکریٹری بلوچستان احمد بخش لہڑی نے جمعرات کو کوئٹہ میں ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے مختصر بات چیت کے دوران کہا کہ نواب بگٹی کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں صوبائی حکومت وہ تمام اقدامات کر رہی ہے جس کی ضرورت ہے۔

بقول چیف سکریٹری صوبائی حکومت نے نواب بگٹی قتل کیس کی تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے تحریری طور پر رابطہ کرے۔

ایک سوال کے جواب میں احمد بخش لہڑی نے کہا کہ اس وقت نواب بگٹی قتل کیس بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرِسماعت ہے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی تفتیش کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

دوسری جانب صوبائی سکریٹری داخلہ ظفراللہ بلوچ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کا آئندہ اجلاس تیرہ جولائی کو کوئٹہ میں ہو رہا ہے جس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت تما م وفاقی وزراء شرکت کے لیے کوئٹہ آ رہے ہیں۔

سکریٹری داخلہ کے مطابق وفاقی کابینہ کے کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا صرف بلوچستان کے مسائل ہیں۔ جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکچ پر عمل درآمد کے علاوہ صوبے میں جاری ٹارگٹ کلنگ، لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے علاوہ نواب محمد اکبر بگٹی قتل کیس خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے۔

سکریٹری داخلہ کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں کے بعد نہ صرف نواب محمد اکبرخان بگٹی قتل کے مقدمے میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو تحریری طور پرلکھا جائے گا بلکہ سابق ڈپٹی کشمنر ڈیرہ بگٹی غلام اکبر لاسی کی گرفتاری کے لیے بھی سندھ حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔ بقول سیکرٹری داخلہ سابق ڈی سی او ڈیرہ بگٹی غلام اکبر لاسی اس وقت کراچی میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ نواب محمد اکبر خان بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کی جانب سے ان کے والد کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ایک آئینی درخواست ان دنوں بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ اس ماہ کے آخر میں ہونے والی سماعت پر ایک اہم گواہ مولوی ملوک کو عدالت میں پیش کیا جائے ۔ مولوی ملوک نے نہ صرف چھبیس اگست دو ہزار چھ کو بلوچ قوم پرست رہنماء نواب بگٹی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد دعوی کیا تھا کہ تابوط میں بند لاش نواب اکبر بگٹی کی تھی بلکہ انہوں نے نمازجنازہ بھی پڑھائی تھی۔

اسی بارے میں