کشمیر: چھ سال بعد، تینتیس فیصد سکول بحال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکول کے خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کے لیے مجبور ہیں

پاکستان کے زیرِاہتمام کشمیر اور اس کے شمالی علاقوں میں آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کو آنے والے تباہ کن زلزلے کے چھ سال بعد متاثرہ سکولوں میں سے صرف تینتیس فیصد عمارتیں تعمیر ہوسکی ہیں۔

ان عمارتوں کی تعمیر نو میں سست روی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً دو لاکھ بچے اب بھی خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ مظفرآباد کے نواحی علاقے اپر چھتر میں گورنمنٹ بوائز علی اکبر ماڈل ہائی سکول کے بیشتر بچے گذشتہ چھ سال سے پھٹے پرانے خمیوں یا پھر زمین پر بیٹھ کر کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اس سکول کے طلباء کا کہنا ہے کہ ناموافق تعلیمی ماحول کی وجہ سے ان کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔

اسی سکول کے چوتھی جماعت کے طالب علم محمد زید نے بتایا ’ہمارے پاس عمارت ہے اور نہ ہی خیمے اس لیے گرمی ہو یا سردی ہو ہم باہر ہی بیٹھتے ہیں۔‘ ساتویں جماعت کے امجد بشیر نے کہا یہ وہ پھٹا ہوا خیمہ ہے جس پر بیٹھ کر ہم چھ سال سے پڑھ رہے ہیں، سردیوں میں گرمی کا کوئی انتظام نہیں،گرمیوں میں پنکھے نہیں ہوتے اور بارشوں میں پانی خیمے کے اندر آجاتا ہے۔‘

علی اکبر ماڈل اسکول کی عمارت دو منزلہ تھی لیکن سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے میں یہ عمارت تباہ ہوگئی اور ابھی تک یہ عمارت دوبارہ تعمیر نہیں ہوسکی ہے۔ اس سکول کے بچوں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہے جن میں سے صرف ساڑھے تین سو بچے زلزلے کے بعد ترکی کی جانب سے تعمیر کیے گیے عارضی سکول میں آ سکے اور باقی بچے یا تو خیموں میں یا پھر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

علی اکبر سکول کے پرنسپل سید شبیر حسین ترمذی نے کہا کہ زلزلے کے بعد سے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ سنہ انیس سو نواسی میں اس سکول کے قیام بعد سے زلزلے سے پہلےتک اس سکول کے سینتیس بچوں نے دسویں جماعت میں بورڈ کے امتحانات میں پہلی بیس پوزیشنز حاصل کیں لیکن زلزلے کے بعد سے سکول کے بچوں نے دسویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات میں کوئی نمایاں پوزیشن حاصل نہیں کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زلزلے کے بعد بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے، پرنسپل سید شبیر حسین ترمذی

’اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ بچوں کو بہتر ماحول میسر نہیں آیا ، ہمارے پاس عمارت نہیں، بیٹھنے کی جگہ نہیں، شدید سردی اور گرمی میں بچوں کو چھٹی دینا پڑتی ہے۔‘

واضح رہے کہ چھ سال قبل آنے والے تباہ کن زلزلے میں صرف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں تقریباً ساڑھے اٹھائیسں سو تعلیمی ادارے تباہ ہوگئے تھے جن میں اکثریت سکولوں کی تھی۔

زلزلے کے نتیجے میں دو سو اساتذہ سمیت تقریباً پانچ ہزار طالب علم ہلاک ہوئے تھے۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں تباہ شدہ اٹھائیس سو تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں سے ساڑھے نو سو عمارتیں بیرونی امداد سے تعمیر کی جانی تھی جبکہ باقی عمارتیں حکومت پاکستان نے تعمیر کرنی تھیں۔

حکام کہتے ہیں کہ اب تک غیر ملکی امداد سے آٹھ سو عمارتیں تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ باقی پر تعمیر کا کام جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے جن عمارتوں کو تعمیر کرنا تھا ان میں سے اب تک صرف ایک سو عمارتیں ہی مکمل کی گئی ہیں، نو سو عمارتوں پر ابھی تک کام ہی شروع نہیں ہوسکا ہے اور اتنی ہی تعداد میں زیرِتعمیر عمارتوں پر بھی فنڈز کی کمی کی وجہ سے کام بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے تعمیرِ نو و بحالی کے ادارے کے سربراہ چوہدری لیاقت حسین نے کہا کہ عمارتوں کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ فنڈز کی کمی ہے۔

’پاکستان میں پہ در پہ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے پہلے سے مشکل اقتصادی حالات مذید مشکلات سے دوچار ہوگئے۔ مثال کے طور پر سوات اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی اور ان علاقوں کی تعمیرِنو، گزشتہ سال ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب اور رواں برس دوبارہ شدید سیلاب کی وجہ سے زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے مطلوبہ رقم کی فراہمی کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔‘

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار پانچ کے زلزلے میں پاکستان کے شمالی علاقوں اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں تہتر ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک جبکہ تقریباً پینتیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔

اسی بارے میں