کراچی کی جماعتوں کو مسلح ونگز پر بھروسہ: ایچ آر سی پی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی کی تمام جماعتیں ایک دوسرے پر تشدد کے الزامات لگاتی ہیں مگر اپنی جماعت میں موجود مسلح قوتوں کو تسلیم نہیں کرتیں، ایچ آر سی پی۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے کراچی میں تشدد کے واقعات پر اپنے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی مکمل رپورٹ شائع کر دی ہے جس میں شہر کی تمام سیاسی جماعتوں کو صورتحال کا ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو احساس بھی نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو مایوس کر رہی ہیں اور یہ کہ اس معاملے میں کوئی بھی جماعت معصوم نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست لوگوں کے حق زندگی کی حفاظت کرنے میں مکمل اور بری طرح ناکام ہوئی ہے۔ دو عشروں کی کوتاہ نظر پالیسیوں نے کراچی کو تباہ کر دیا ہے جس سے سب کے سیاسی اور معاشی مفادات وابستہ ہے۔

انسانی حقوق کمیشن نے اپنے مشاہدات میں لکھا ہے کہ کراچی کی تمام جماعتیں ایک دوسرے پر تشدد اور مجرموں کی پشت پناہی کے الزامات لگاتی ہیں مگر اپنی جماعت میں موجود مسلح قوتوں کو تسلیم نہیں کرتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی پولیس سے سیاسی مداخلت ختم کی جائے، ایچ آر سی پی

مزید یہ کہ کراچی میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ کام کاج کے لیے آتے ہیں جن کی اکثریت صوبہ خیبر پختونخوا یا جنوبی پنجاب سے ہوتی ہے۔ اسی لیے عوامی نیشنل پارٹی قومی اور صوبائی اسمبلی میں اپنی نشستوں میں اضافے کے خواب دیکھتی ہے جس سے ایم کیو ایم کو شدید خدشات ہیں جو اپنی انتخابی حیثیت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

بارہ مئی دو ہزار سات کو ایم کیو ایم اور اے این پی کے مابین ہونے والا تشدد کراچی میں بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ہی حالیہ تشدد کا آغاز ہوا تھا۔ تمام جماعتیں دوسروں کے مینڈیٹ کااحترام کرنے کا دعوٰی تو کرتی ہیں مگر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھروسہ اپنے مسلح ونگ پر کرتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی کراچی کے معاملات میں مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ لینڈ مافیا اور دیگر گروہ نقصِ امن کی صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شہر کو اسلحے سے پاک کرنے کی مہم شروع کرنے جیسے اہم معاملات پر اس لیے پیشرفت نہیں ہوتی کیونکہ ہر ایک اپنی مرضی چاہتا ہے۔ کراچی اس وقت نسلی، سیاسی، لسانی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر منقسم ہے۔

رپورٹ کے مطابق نسلی بنیاد پرلوگوں کے کاروبار کو تباہ کیا جاتا ہے جن میں بڑی تعداد پشتونوں کی ہے۔

قانون نافذ کرنےوالےادارے بے بس اور مایوس ہیں کیونکہ گزشتہ دس برسوں میں سینکڑوں پولیس والوں کی ہلاکت نے ان کا مورال ختم کر دیا ہے۔

ہنگامی حالات میں پیرا میڈیکل اسٹاف بھی متاثرہ افراد کی نسل کی بنیاد پر تفریق کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی اس وقت نسلی، سیاسی، لسانی اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر منقسم ہے، ایچ آر سی پی۔

کراچی شہر کی آبادی اور اس کے پھیلاؤ میں اضافہ اور اس کے ایک میگا سٹی بننے سے یہاں صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، گیس اور روزگار کے شدید مسائل ہیں جن کے تدارک کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

کراچی میں صحافی بھی تمام جماعتوں سے یکساں خوفزدہ ہیں اور وہ متاثرہ علاقوں سے رپورٹنگ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔

کراچی میں چھوٹا بڑا ہر کاروباری شخص بھتا دیتا ہے اور بھتہ خوروں کے مبینہ طور پر سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیں۔ کراچی میں وکلاء کو بھی ٹارگٹ کلنگ میں مارا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ ریاست کمزور ہے عوام کی جان و مال کا تحفظ بہرحال ریاست کی ہی ذمہ داری ہے۔

ایچ آر سی پی نے اپنی رپورٹ میں سولہ سفارشات بھی کیں ہیں جن کے مطابق حکومت کو اب یک زبان ہوکر صرف وہ وعدے کرنے چاہیں جو وہ پورے کر سکے۔

سفارشات کے مطابق ریاست کی کراچی میں عمل داری بہت کم ہے اس لیے مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کے مقدمات کی تفتیش کر کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے تو پولیس کا مورال بہتر ہو سکتا ہے۔

پولیس کو قانون کسی ڈر کے بغیر نافذ کرنا چاہیے اور برادری کے غیر سیاسی افراد کی مدد سے پولیس کے کام میں مدد کرنی چاہیے اور کراچی میں تشدد کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔

کراچی پولیس سے سیاسی مداخلت ختم کی جائے کیونکہ کراچی کے حالات کی وجہ یہ ہے کہ ریاست یہاں کے معاملات میں سیاسی مصلحت کی وجہ سے دلچسپی نہیں لیتی۔ کراچی کو ہر قسم کے اسلحے سے پاک کیا جائے چاہے یہ لائسنس یافتہ اسلحہ ہی کیوں نہ ہو اور اس سلسلے میں سول سوسائٹی اپنا کردار ادا کرے۔

کراچی کے مسائل جیسے پانی، ٹرانسپورٹ وغیرہ فوری طور پر حل کر کے یہاں زیر قبضہ زمین بازیاب کروائی جائے اور یہاں رہنے والی مختلف قومیتوں اور نسلوں کے مابین ہم آہنگی اور یگانگت پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔

کراچی میں مقیم تمام غیر قانونی افراد کو رجسٹر کیا جائے۔

کراچی کی سیاست میں ریاست کی مداخلت فوری طور پر بند کی جائے۔ ریاست کو عوام کا خیال کرنا چاہیے نہ کہ انہیں مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

اسی بارے میں