ڈینگی بخار سے سینیئر صحافی کا انتقال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ممتاز صحافی اور ادیب صلاح الدین محمد کی رسم قل سنیچر کو لاہور میں ادا کی گئی۔ وہ ڈینگی کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث جمعہ کو انتقال کرگئے تھے۔

اُن کی عمر اسی برس تھی ۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کا کہنا ہے کہ صلاح الدین محمد نے پاکستان اوبزرور اور پاکستان ٹائمز میں بطور صحافی کام کیا اور بعد میں اُنہوں نے پاکستان ٹائمز میں ہی ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں ۔

ان کے لکھے ہوئے اداریے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔انگریزی اخبار دی گارڈین اور روسی اخبار پراخ دا ارزوستیا میں ان کے لکھے ہوئے اداریے کی اشاعت ہوتی تھی ۔

صلاح الدین محمد نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ابتدا میں بھارت میں ٹریڈ یونین میں کام کیا اور پھر کانگریس کے بائیں بازو کے حلقے میں کافی متحرک رہے ۔

تقسیم ہند کے بعد وہ مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ چلے گئے جہاں انہوں نے صحافت کا باقاعدہ آغاز کیا۔ وہ مشرقی پاکستان میں صحافی یونین کے صدر بھی رہے ۔

ان کے دیرینہ ساتھی اور مقامی اخبار کے کالم نویس سعید احمد کے مطابق صلاح الدین محمد خطے کی سیاست پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے کھل کر سیکولر سیاست کی حمایت کی ۔

صلاح الدین محمد افریقی اور ایشیائی ممالک کی تنظیم افرو ایشین سولیڈیرٹی کے جنرل سکریٹری بھی رہے ۔

انہوں نے شاعری بھی کی۔ ان کی شاعری جن بڑے ادبی رسالوں میں شائح ہوئی ان میں فنون، ادب لطیف اور نقوش شامل ہیں۔البتہ انہوں نے کبھی اپنا مجموعہ شائح نہیں کیا ۔

مرحوم صلاح الدین محمد کے پسماندگان میں بیوہ، سات بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔ ان کے بیٹے نجف یاور لاہور کالج یونیورسٹی میں ایم بی اے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں۔

افرو ایشین سولیڈیرٹی کے جنرل سیکرٹری ہونے کے باعث وہ عرب ممالک میں ہونے والی کانفرنسوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔ وہ فلسطینی انتظامیہ کے سابق صدر یاسر عرفات اور دیگر عرب رہنماؤں کے بھی کافی قریب تھے۔

اسی بارے میں