جہاں چونٹیاں ہوئیں خیمہ زن !

تصویر کے کاپی رائٹ world Service

اگرچہ ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ کراچی کے نیو کیمپس کا سنگِ بنیاد سکندر مرزا نے رکھا مگر ان کے بعد کوئی حاضر سروس حکمراں جامعہ کراچی کا مہمان نہ بن سکا۔ یہاں کے طلبا بھلے دائیں بازو کے ہوں یا بائیں بازو کے اس بات پر اتراتے تھے کہ یونیورسٹی ایک آزاد علاقہ ہے جہاں کوئی ناپسندیدہ شخص یا مسلح ادارہ پر نہیں مار سکتا۔ جو بھی مارکٹائی صلح صفائی ہونی ہے وہ بیرونی مداخلت کے بغیر آپس میں ہی ہونی ہے ۔

کوئی بھی طلبا تنظیم یا پھنے خان طالبِ علم، وائس چانسلر تو دور کی بات شعبے کے چیئرمین کو دیکھتے ہی سر جھکا دیتا اور آواز نیچی کر لیتا۔جھگڑا جتنا بھی سنگین ہو جب استاد بیچ میں آجاتا تو مسلح طلبا بھی اپنے چہرے اور چاقو خنجر چھپا کر نیچے نیچے نکل لیتے۔ غنڈے طلبا کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔ بعض کو یونیورسٹی سے بھی خارج کیا جاتا تھا لیکن ان کی پشت پناہ تنظیمیں یونیورسٹی انتظامیہ سے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست چاقو دکھا کر نہیں بلکہ ’سر آئندہ ایسا نہیں ہوگا‘جیسے جملوں سے کرتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جامعہ کراچی میں سنہ انیس سو اٹھہتر کے انتخابات کا ایک منظر

یونین کے انتخابات میں گالیاں،گھونسے، لاتیں چلتی تھیں لیکن مسلح بدمعاشی کرنے والی تنظیمیں اگلے الیکشن تک وضاحتوں پر وضاحتیں کرتی ہلکان ہوجاتیں۔

اور پھر جنرل ضیا الحق نازل ہوگئے۔ انہوں نے ہر روایت اور ادارے کو پھاڑ کے رکھ دیا۔ طلبا تنظیموں کے بیج لگا کر بیرونی غنڈے آنے لگے۔ یونیورسٹی میں آٹومیٹک اسلحے کی تڑتڑاہٹ گونجنے لگی۔

پہلی پٹائی دائیں بازو کے طلبا کے ہاتھوں شعبہ فلسفہ کے استاد ڈاکٹر ظفر عارف کی ہوئی اور صوبے کے فوجی گورنر و چانسلر جنرل جہانداد خان نے ڈاکٹر ظفر عارف کو وائس چانسلر سے پوچھے بغیر ہی نوکری سے برطرف کردیا۔ وائس چانسلر کے اختیارات میں پڑنے والی اس پہلی دراڑ کے راستے پولیس نے پہلی مرتبہ کیمپس میں ڈیرے ڈال دیے اور پھر پولیس کی جگہ رینجرز نے لے لی۔ وہ دن اور آج کا دن جامعہ کراچی بھاری بوٹ تلے سے نکل نا پائی۔بقولِ فراز

جہاں چونٹیاں ہوئیں خیمہ زن

یہاں جگنوؤں کے مکان تھے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وہ دن اور آج کا دن جامعہ کراچی بھاری بوٹ تلے سے نکل نا پائی

وہ آرٹس لابی جس کی بنچوں اور منڈیروں پر صرف شریر و شرمیلے طلبا و طالبات بیٹھتے تھے آج ان بنچوں اور منڈیروں پر صرف آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، اسلامی جمیعت طلبہ اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنان و کارکنات بیٹھنے کی ہی جرات کر سکتے ہیں۔

کوئی ٹیچر کسی طالبِ علم کو فیل کرنے یا کم حاضری کے سبب امتحان میں بیٹھنے سے منع کرنے کا تصور نہیں کرسکتا۔جس یونیورسٹی کا وائس چانسلر کبھی اکبرِ اعظم کی طرح اکڑتا تھا آج بہادر شاہ ظفر بھی نہیں رہا ، اعزازی سیکٹر انچارج ہوگیا ہے۔ لگ بھگ چالیس فیصد تقرریاں اب بھی میرٹ پر ہوتی ہیں اور باقی ٹیلی فون، کچی پرچ ، سفارش، دھمکی، احسان مندی اور بھائی بھتیجا واد کے گرد گھومتی ہیں۔

اس سب کے باوجود جانے کیوں یہ سوچ سوچ کر سر فخر سے اونچا ہوتا رہا کہ جس یونیورسٹی سے میں پڑھا ہوں وہ کوئی معمولی ادارہ نہیں ۔ بلکہ یہاں ابا حلیم ، ڈاکٹر محمود حسین، احسان رشید، محمد احسن فاروقی، عطا الرحمان، ریاض السلام، نسیمہ ترمذی، حفیظ پاشا، پروفیسر زکریا ساجد اور ڈاکٹر احمد عبدالقدیر جیسے دیوانے اساتذہ کے قدموں کے نشانات ہیں۔

Image caption اور پھر جنرل ضیا الحق نازل ہوگئے۔انہوں نے ہر روایت اور ادارے کو پھاڑ کے رکھ دیا۔ طلبا تنظیموں کے بیج لگا کر بیرونی غنڈے آنے لگے

اس یونیورسٹی نے معمولی لوگوں کو نہیں بلکہ پروفیسر احمد علی، ڈاکٹر اختر حمید خان، جمیل الدین عالی، سیدنا برہان الدین، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر قدیر خان اور مشتاق احمد یوسفی سمیت کئی نادرِ روزگار ہستیوں کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریوں سے نوازا ہے۔

اور پھر یہ خبر آگئی کہ کراچی یونیورسٹی نے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کو کراچی میں قیامِ امن اور دہشت گردی کے خلاف کارہائے نمایاں پر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا اعلان کیا ہے۔ جس طرح کراچی یونیورسٹی نے ملک صاحب کے کارہائے نمایاں کو پرکھا ہے بالکل اسی طرح غالباً ان کی تعلیمی قابلیت کی بھی سکروٹنی کی گئی ہوگی۔

وکی پیڈیا کے مطابق رحمان ملک نے کراچی یونیورسٹی سے انیس سو تہتر میں شماریات میں ایم ایس سی کیا ۔ وکی پیڈیا کے اسی صفحے پر یہ بھی لکھا ہے کہ رحمان ملک نے کراچی یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اور پھر یہ خبر آگئی کہ کراچی یونیورسٹی نے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کو کراچی میں قیامِ امن اور دہشت گردی کے خلاف کارہائے نمایاں پر ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا اعلان کیا ہے

خود ملک صاحب کے نام سے موجود ویب سائٹ رحمان ملک ڈاٹ کام سے یہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے انیس سو تہتر یا اس کے آس پاس کسی مضمون میں ایم اے یا ایم ایس سی کیا البتہ یہ ضرور لکھا ہے کہ رحمان ملک نے انیس سو تہتر میں سول سروس جوائن کی اور انیس سو چوراسی پچاسی میں دورانِ ملازمت بین الاقوامی ادارہِ محنت ( آئی ایل او) اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے انٹرنیشنل مائیگریشن کے موضوع پر یونیورسٹی آف فلپینز کی فیلوشپ ملی۔ تاہم یہ وضاحت نہیں کہ یونیورسٹی آف فلپینز کے کس کیمپس میں انہوں نے یہ فیلوشپ برتی ( منیلا، لاس بانوس، دلمان یا منڈاناؤ )۔ایک اور ویب سائٹ کے بقول ملک صاحب نے کسی نامعلوم یونیورسٹی سے سیکورٹی مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ بھی لے رکھی ہے۔

پراسرار تعلیمی قابلیت کے حامل پراسرار رحمان ملک کی پراسرار خدمات کے عوض کراچی یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کرنے کے پراسرار فیصلے کی خبر پر اس یونیورسٹی کے مشفق وائس چانسلر پیرزادہ قاسم کا ہی ایک شعر یاد آ رہا ہے،

یہ سوچتے ہیں کب تلک ضمیر کو بچائیں گے

اگر یونہی جیا کریں ضرورتوں کے درمیاں

اسی بارے میں