بلوچستان: چار لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبے میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کئی بار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے خضدار اور پسنی سے مزید چار لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔

دریں اثناء انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب تک صرف مکران ڈویژن سے ڈیڑھ سو سے زیادہ لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق خضدار لیویز فورس کو اتوار کے روز باغبانہ کے علاقے سے دو لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جنہیں قبضے میں لیکر سول ہسپتال خضدار پہنچایاگیا جہاں ان کی شناخت غلام اللہ اور ولید بلوچ کے نام سے ہوئی ہے لیویز نے ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثاءکے حوالے کر دی ہیں۔

’حکومت بلوچستان میں کمشدگیاں روکے‘

بلوچستان میں ’قتل عام‘ کا نوٹس لیں

غلام اللہ (بلوچ وطن موومنٹ)جنرل سیکریٹری اور ولید بلوچ کا تعلق بلوچ طلبہ تنظیم (بی ایس او) سےتھا ہے۔ غلام اللہ کو دو ماہ قبل کراچی سے جبکہ ولید بلوچ کو آٹھ اگست کو نامعلوم افراد نے باغبانہ سے اغواء کیا تھا۔

اُدھر تربت کے علاقے پسنی (بیلار) سے مقامی لیویز کو دو افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملی ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال تربت پہنچا دیا گیا جہاں ان کی شناخت سمیر رند اور خالق داد کے نام سے ہوئی ہے۔

سمیر رند کوایک سال قبل چودہ اکتوبرکی رات کو تربت میں واقع ان کےگھر سے نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھاجن کو منظرعام پر لانے کے لیے ان کے رشتہ داروں نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔

اس سلسلے سمیر رند کی ہمشیرہ ثنیہ رند نے چند ہفتے قبل بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے علاوہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو بھی خطوط ارسال کیے تھے لیکن کسی نے انہیں جواب تک نہیں دیا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام مکران سپیشل ٹاسک فورس کی جانب سے لاپتہ افراد کی مسلسل لاشیں ملنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

تربت میں ٹاسک فورس کے سربراہ عبدالغنی پرواز کا کہنا ہے کہ صرف مکران ڈویژن میں گذشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف ڈیڑھ سو سے زیادہ لاپتہ افراد کی لاشیں مل چکی ہیں بلکہ ابھی تک سکیورٹی فورسز کی جانب سے لوگوں کو اغواء کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل انسانی حقوق کمیشن نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے پر ایک تفصیلی رپورٹ بھی جاری کی تھی لیکن اس کے باوجود ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں