بچوں کی رہائی: والدین کی کوششیں

اغوا ہونے والے بچے تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیشتر والدین غریب ہیں اور زیادہ اثر رسوخ نہیں رکھتے

پاکستان کے قبائلی علاقے با جوڑ ایجنسی سے عید کے روز اغوا ہونے والے دو درجن سے زیادہ لڑکوں کی بازیابی کے لیے ان کے والدین نے اپنے طور پر رابطے بڑھا دیے ہیں۔

لیکن سرکاری سطح پر ان لڑکوں کو رہا کرانے کی کوئی کوششیں نظر نہیں آ رہی ہیں۔

یرغمال بچے: ’فیصلہ باجوڑ کی مرکزی شوریٰ کرے گی‘

’میں کیسے گھر پہنچا کچھ معلوم نہیں‘

’غلطی سے سرحد عبور، طالبان نے تیس بچے یرغمال بنا لیے‘

پشاور سے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ مغوی لڑکوں کے والدین نے باجوڑ ایجنسی میں قبائلی رہنماؤں اور مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور اپنے بچوں کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ بیشتر والدین غریب ہیں اور زیادہ اثر رسوخ نہیں رکھتے جبکہ سرحد کے اس پار افغانستان کی جانب جانے میں خطرہ پایا جاتا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ مقامی انتظامیہ نے ان بچوں کے والدین کو سرحد کے اس پار جانے سے اس لیے منع کر رکھا ہے کہ تاکہ کوئی اور واقعہ پیش نہ آجائے۔ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ اس طرح کے مزید واقعات پیش نہ آ سکیں۔

قبائلی رہنماوں نے بتایا ہے کہ ان کی کوششیں جاری ہیں اور اس کے لیے انھوں نے سرحد کے اس پار افغانستان کے صوبہ کنڑ میں بااثر شخصیات سے رابطے کیے ہیں تاکہ لڑکوں کو بازیاب کرایا جا سکے ۔

قبائلی رہنماوں نے اغوا کے واقعہ کے چند روز بعد یہی کہا تھا کہ لڑکوں کو جلد بازیاب کر لیا جائے گا لیکن ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود اب تک لڑکوں کی بازیابی عمل میں نہیں آ سکی ہے۔

مشتبہ طالبان نے دو درجن سے زیادہ لڑکوں کو عید کے روز اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ سرحد کے اس پار چلے گئے تھے۔

تحریک طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی اور ان کی بازیابی کے لیے شرائط پیشں کی تھیں جن میں اپنے ساتھیوں کی رہائی اور سرکار کی حمایت سے بننے والے لشکروں سے مقامی لوگوں کی علیحدگی کا مطالبہ تھا۔

تحریک طالبان کے نائب امیر مولوی فقیر نے چند روز پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کے لڑکے ان کی تحویل میں ہیں اور مجاہدین کے اچھے ماحول میں ہیں۔

اسی بارے میں