شدت پسندی میں مطلوب امامِ مسجد گرفتار

Image caption ملز م قاری عنایت کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے شدت پسندی کی متعدد وارداتوں میں مطلوب قاری عنایت کو پیر کے روز گرفتار کرکے اُن کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈز برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ملزم اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں واقع ایک مسجد کے امام بھی ہیں۔

ملزم کی گرفتاری سردار علی خٹک کی نشاندہی پر عمل میں لائی گئی ہے جو وزارتِ خزانہ میں ملازم ہیں اور اُن پر جنوبی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں سے خودکش حملہ آوروں کو اسلام آباد میں ٹھہرانے اور اُنہیں معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔

پولیس ذرائع نے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ ملزم سردار علی خٹک کے بیان کی روشنی میں قاری عنایت کی نقل وحرکت کی نگرانی شروع کردی اور ٹھوس شواہد ملنے کے بعد مذکورہ امامِ مسجد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے چار ہینڈ گرنیڈز بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قاری عنایت ملزم سردار خٹک کے گھر پر رہائش پذیر بھی رہا ہیں جہاں پر پولیس نے چھاپہ مار کر خودکش جیکٹیں اور دیگر اسلحہ برآمد کیا تھا۔

پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ملزمان قاری عنایت اور سردار علی خٹک جعلی کرنسی کا کاروبار بھی کرتے رہے ہیں اور اُن کے خلاف جعل سازی کے دو مقدمات بھی درج ہیں۔

ملزم قاری عنایت کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں پر دیگر حساس اور خفیہ اداروں کے اہلکار اُن سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

پولیس کے ترجمان کے مطابق ملزم کے خلاف تھانہ آبپارہ میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

درین اثناء راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے چار ملزمان کو سات روزہ ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

ان افراد کو سنیچر کے روز اسلام آباد کے نواحی علاقے چھٹہ بختاور میں ایک گھر میں چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور اُن کے قبضے سے راکٹ لانچرز، خودکش جیکٹیں، ہینڈ گرنیڈز اور دیگر اسلحہ برآمد کیا گیا تھا۔