’خوراک کی عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ‘

لوگ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خوراک کی عالمی قلت اور کھانے پینے قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے

اقوام متحدہ کے تین اداروں کا کہنا ہے کہ خوراک کی عالمی سطح پر بڑھی ہوئی قیمتیں اقوام متحدہ کی سنہ دو ہزار پندرہ تک دنیا میں بھوک سے متاثر افراد کی تعداد کو نصف تک کم کرنے کی راہ میں نمایاں رکاوٹ بنتی جا رہی ہیں۔

اٹلی کے شہر روم سے جاری ہونے والی مشترکہ رپورٹ میں تین ادارے اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت سے متعلق تنظیم (ایف اے او)، خوراک کا عالمی پروگرام (ڈبل یو ایف پی)، اور زرعی ترقی کا بین الاقوامی فنڈ (آئی ایف اے ڈی) نے کہا ہے کہ اس سے صورتحال خاصی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تینوں تنظیموں نے بھوک کی عالمی صورتحال پر ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امکان ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا جس سے غریب ممالک کے کاشتکاروں اور صارفین کو مشکلات کا سامنا ہوگا، غربت بڑھے گی اور بھوک کے متاثرین میں بھی اضافہ ہوگا۔

اس ماہ کے آخر تک دنیا کی آبادی سات ارب تک پہنچ جائے گی اوراقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس آبادی میں سے تقریباً ایک عرب افراد بھوک کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگلے دس سال میں انتہائی قسم کی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی خوراک کی قیمتیں اوپر نیچے ہوتی رہیں گی۔ اس سے افریقہ سب سے بری طرح متاثر ہوگا جہاں سنہ 2008 کی عالمی کساد بازاری سے بھی صورتحال خاصی خراب ہوئی تھی۔ 2008 میں افریقہ میں بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ ایشیا میں ان کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے امیر ممالک اپنی خوراک کی منڈیوں کی دفاع تجارتی پابندیوں، غریبوں کی امداد کے لیے قائم سرکاری سہولتوں اور خوراک کے ذخائر کے ذریعے کر لیتے ہیں۔ تاہم اس سے ان ممالک میں حالات بگڑ جاتے ہیں جو درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ خوراک کے ذخائر کے بارے میں معلومات کا تبادلہ زیادہ ہونا چاہیے، غریب ممالک میں زراعت میں طویل عرصے کی سرمایہ کاری کی جانی چاہیے، اور پیداوار میں گراوٹ کی صورت میں اناج کی برآمدات پر پابندیوں کو ختم کردینا چاہیے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے اقوام متحدہ کے ملینیئم ڈیولپمنٹ گولز یعنی اس صدی کے لیے مقرر اہداف تک پہنچنا مشکل لگتا ہے۔

اسی بارے میں