ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا استعفیٰ منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو نے اعلان کیا ہے کہ رکن اسمبلی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ہے۔

کراچی میں اپنے چئمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے بتایا کہ درخواست میں استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی صرف اتنا تحریر ہے کہ وہ استعفیٰ دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے انتیس اگست کو پریس کانفرنس میں متحدہ قومی موومنٹ اور وفاقی وزیر رحمان ملک پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد انہوں نے سینئر صوبائی وزیر، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدوں اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔

سپیکر نثار کھوڑو نے پریس سے خطاب کرتے ہوئے اکتالیس روز کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے استعفے کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ مرزا کچھ روز کے لیے ملک سے باہر تھے اور ان کی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی آج انہیں جیسے ہی درخواست موصول ہوئی تو وہ اس کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔

’ آئینی طور پر اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد میں نے ڈاکٹر مرزا سے رابطہ کیا، جنہوں نے تصدیق کی کہ یہ درخواست انہوں نے لکھی ہے جس کے بعد اسے قبول کرلیا گیا۔‘

سپیکر کے مطابق جلد ہی اس نشست کا نوٹیفیکشن جاری کردیا جائے گا جس کے بعد سپیکر کا کام ختم اور پھر الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کے بارے میں اعلان کرے گا۔

دوسری جانب ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑہ سے ملاقات کی، اس موقعے پر پیر پگاڑہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔

بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان اور سندھ کے عوام کی حمایت حاصل ہے، بلدیاتی نظام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی، فنکنشل لیگ، جتوئی گروپ اور مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی دریائے سندھ کا پانی پیتے ہیں اور اس دھرتی کا اناج کھاتے ہیں وہ ہرگز بلدیاتی نظام کا بل منظور نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ساتھ پیپلز پارٹی سے منسلک چار اراکین اسمبلی بھی موجود تھے، پارٹی کی جانب سے ان پر ہونی والی ممکنہ کارروائی کے بارے میں ڈاکٹر مرزا کا کہنا تھا کہ پہلے ان کے خلاف کارروائی ہوگی اور اس کے بعد ان ارکان اسمبلی کے خلاف ہوگی۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ میں ایک وجہ اختلاف بلدیاتی نظام بھی ہے۔

دریں اثنا کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا،جس میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف نعرہ لگائے ہیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر اہلیان کراچی تحریر تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے ایم کیوایم کے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایم کیوایم کی قیادت کے خلاف کسی بھی فرد کے اشتعال انگیز بیان پر ہرگز مشتعل نہ ہوں اور اپنے جذبات قابو میں رکھیں۔

اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیوایم کی قیادت کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے پر کارکنان وعوام کا اشتعال میں آنا فطری عمل ہے لیکن وہ کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ خدا کے انصاف کا انتظارکریں۔

اس احتجاج کے دوران شہر کے کاروباری اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند ہوگئے، جس کے باعث ٹریفک بری طرح جام ہوگیا۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ نامعلوم نوجوان آئے اور دکانیں بند کرنے کا کہہ کر چلے گئے، جس کے بعد بولٹن مارکیٹ، جامعہ کلاتھ، زینب مارکیٹ صدر، ایمپریس مارکیٹ اور دیگر کاروباری مراکز بند ہوگئے۔

بعض پیٹرول پمپ مالکان نے پمپ اسٹیشنوں کو قناتوں کی مدد سے بند کر دیئے، جس کے باعث لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے کراچی میں ہلاکتوں کے معاملے پر از خود نوٹس کی کارروائی پر فیصلے کے بعد پہلی مرتبہ شہر میں صورت حال میں خوف ہ ہراس پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں