’بلوچوں کےدروازے پر جانے کو تیار ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جو لوگ دہشت گردی کی راہ پر چل نکلے ہیں وہ یہ راستہ چھوڑ دیں، گیلانی

پاکستان کے وزیراِعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان میں مسلسل مسخ شدہ لاشیں ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناراض بلوچ بھائیوں سے مذاکرات کے لیے وہ ان کے دروازے تک جانے کو تیار ہیں۔

پاک امریکہ تعلقات بہتری کی طرف گامزن ہیں خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان اور افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔

وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ان خیلات کا اظہار منگل کو کوئٹہ میں پاک فوج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ اور بعد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں امن و امان خراب کرنے والے ہم میں سے نہیں، صوبے کے ناراض لوگ ہمارے بھائی ہیں، ان کی ناراضگی دور کرنے کے لیے ان کے دروازے تک جانے کو تیار ہیں، گورنراور وزیرِاعلیٰ بلوچستان سے کہا ہے کہ وہ ناراض لوگوں سے مذاکرات کریں، ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات سے بلوچستان کا احساسِ محرومی دور کرنے میں مدد ملی، انہوں نے کہا کہ مسخ شدہ لاشوں پر ہمیں بھی افسوس ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

وزیرِاعظم نے ہزارہ قبائل کی ٹارگٹ کلنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔ پاک امریکہ تعلقات بہتری کی جانب جا رہے ہیں تاہم بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے شواہد موجود ہیں اور اس حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

افغانستان اور پاکستان کے مابین مثبت بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، دونوں ممالک کو اس وقت انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔

وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ افغان صدر حامد کرزئی میرے دوست ہیں جب میں سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کی فاتحہ خوانی کے لیے افغانستان گیا تو افغان صدر کو انٹیلی جنس شیئرنگ سمیت ہر قسم کے تعاون کی پیش کش بھی کی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی بحالی احتجاجی ریلیوں اور دھرنوں سے نہیں بلکہ سیاسی و جمہوری حکومت کے اقدامات سے ہوئی، ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے بلوچ مزاحمت کاروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ان لوگوں سے جو دہشت گردی کی راہ پر چل نکلے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہ راستہ چھوڑ کر بلوچ عوام کی ترقی اور خوشحالی کا حصہ بنیں۔ ایسے لوگ اپنی کارروائیوں سے بلوچ عوام کی ترقی و خوشحالی میں دیر تو کرسکتے ہیں مگر ان کا راستہ نہیں روک سکتے انہیں ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

خیال رہے کہ پاسنگ آؤلا پریڈ میں چار ہزار چار سو اسی نوجوانوں نے حصہ لیا اس طر ح گزشتہ دو سالوں میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاک فوج میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

اسی بارے میں