تاثیر قتل: سزائے موت پر عملدرآمد معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ممتاز قادری کو یکم اکتوبر کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں سزا پانے والے مجرم ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد روک دیا ہے اور وفاق سے اس ضمن میں سترہ اکتوبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔

ممتاز قادری کے وکلاء نے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کے جج کی طرف سے اس مقدمہ میں موت کی سزا دینے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

منگل کے روز ہونے والی ابتدائی سماعت جسٹس اقبال حمید الرحمٰن کی سربراہی میں دو رکنی پینچ نے کی۔

مجرم کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ خواجہ شریف ہیں جن کا موقف تھا کہ عدالت میں ان کے دلائل نہیں سنے گئے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ خواجہ شریف کا کہنا تھا کہ ممتاز قادری کو سزائے موت دیے جانے سے قبل سماعت کے دوران یہ کہا گیا تھا کہ استغاثہ کے تحریری دلائل مکمل کیے جانے کے بعد وکیلِ صفائی کے دلائل بھی سنے جائیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا ’متعلقہ عدالت نے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت جو ان کے مؤکل کو سزائے موت دی ہے وہ الزامات اب تک ثابت نہیں ہوئے تھے اور کسی عدالت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ بغیر ثبوت کے فیصلہ سنا دے۔‘

’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جج نے کسی دباؤ میں آ کر جلد بازی میں فیصلہ سنایا ہے۔‘

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج پرویز علی شاہ نے یکم اکتوبر کو ممتاز قادری کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں دو مرتبہ سزائے موت اور ورثاء کو دو لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کی سزا سنائی تھی۔ انہیں بعد میں تبادلہ کر کے لاہور میں بچوں کے حقوق کی عدالت میں بھجوا دیا گیا۔

ایک اطلاع کے مطابق انہیں سکیورٹی خدشات کی بناء پر طویل رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ اخلاق احمد تھے جنہوں نے ممتاز قادری پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ ان کا بھی بعد میں تبادلہ کر دیا گیا تھا۔

عدالت نے مجرم کو سزائے موت دینے کے لیے اُس اقبالی بیان کو بنیاد بنایا ہے جو انہوں نے اسلام آباد کے ایک جج کے سامنے دیا تھا۔

اسی بارے میں