پنجاب فائرنگ: ایک عیسائی نوجوان ہلاک

Image caption پاکستانی مسیحی برادری کے لوگ مسیحوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے

پنجاب کی تحصیل میاں چنوں کے ایک گاؤں میں مبینہ طور پر اراضی پر قبضے کی کوشش کے دوران فائرنگ سے ایک عیسائی نوجوان کی ہلاکت اور بائیس مسیحوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

واقعے میں ملوث مفرور ملزم تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔

پولیس کے مطابق 23 افراد کے خلاف قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور ابھی سات ملزم مفرور ہیں۔ تمام ملزم مسلمان تھے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک عیسائی عدیل کاشف کی اراضی پر مبینہ قبضے کی کوشش کے دوران پیش آیا اور اس واقعہ کا مقدمہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بائیس سالہ نوجوان صابر کے والد کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

مسیحیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کلاس کے مطابق یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب نچلے طقبے کے محنت کش اور ہنر مند افراد جیسے ترکھان اور لوہار وغیرہ کے لیے سرکاری طور پر الاٹ ہونے والی اراضی پر قبصے کی کوشش کی گئی۔

تنظیم کے عہدیدار ندیم انتھونی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ایک کنال ارضی پر اقبال نامی شحص رہائش پذیر تھا اور اس نے مقامی پٹواری سے ملکر یہ اراضی عبدالرحمان اورعنصر نامی افراد کو ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کردی حالانکہ وہ قانونی طور یہ اراضی فروخت کرنے کا مجاز نہیں تھا۔

ندیم انتھونی نے بتایا کہ محمد اقبال غیرقانونی طور پر یہ اراضی فروخت کرنے کے بعد دوسرے گاؤں منتقل ہوگیا جس کے بعد یہ اراضی قانونی طور عدیل مسیح کو الاٹ کردی گئی۔

تنظیم کے عہدیدار نے بتایا کہ جب عبدالرحمان کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ اراضی عدیل مسیحی کو مل گئی ہے تو اس نے مسلح افراد کے ساتھ ملکر اس اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔

اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے نوجوان صابر کے والد اور مقدمہ کے مدعی بشیر مسیح کے مطابق پانچ اکتوبر کو عبدالرحمان اور محمد عنصر کے ساتھ ٹریکٹر ٹرالی اور موٹر سائیکل پر سوار دو درجن کے قریب افراد گاؤں میں آئے اور ان کے پاس جدید اسحلہ بھی تھا۔

مبینہ حملہ آور عدیل میسحی کے گھر میں زبردستی داخل ہوگئے اور گھر کا سامان باہر پھینکنا شروع کردیااس پر گھر میں موجود افراد نے شور مچایا اور گاؤں کے لوگ ان کی مدد کے لیے وہاں پہچ گئے۔

مدعی کا کہنا ہے کہ میبنہ حملہ آور نے لوگوں کو اپنے طرف آتا دیکھ کر ان پر جدید اسحلے سے فائرنگ کی جس کے نیتجے میں ایک نوجوان صابر کی موت ہوگئی جبکہ بائیس کے قریب مسیحی افراد زخمی ہوئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق سات ملزم ابھی مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں