’جی ایچ کیو میں بریفنگ سے انکار‘

پارلیمان کی تمام جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی نےسکیورٹی کی صورتحال پر جی ایچ کیو میں بریفنگ لینے سےانکار کر دیا ہے۔

فوجی قیادت نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی دفاع کے بارے میں قائمہ کمیٹیوں اور سلامتی کے بارے میں پارلیمان کی کمیٹی کو جمعرات کو جی ایچ کیو میں ہونے والی بریفنگ میں شرکت کے لیےمدعو کیا تھا۔

پارلیمانی کمیٹی نےمیاں رضا ربانی کی سربراہی میں گزشتہ روز ایک مشاورتی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا کہ وہ باہمی طور پر طے کردہ تاریخ کے بعد بریفنگ لیں گے۔

جماعتِ اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھر کی پارلیمانی روایت ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ پارلیمان میں دی جائے۔

ان کے بقول اب تک پارلیمانی کمیٹی کو فوجی قیادت پارلیمان میں آ کر بریفنگ دیتی رہی ہے لہٰذا یہ روایت برقرار رہنی چاہیے۔

نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے فوجی قیادت کو دبے الفاظ میں یہ پیغام دیا ہے کہ پارلیمان ایک بالادست ادارہ ہے اور فوج اس کے ماتحت ہے۔

پروفیسر خورشید احمد نے مزید کہا کہ کہ فوجی ہیڈ کوارٹر میں پارلیمان کی دفاع کے بارے میں قائمہ کمیٹیوں کو بریفنگ کے لیے بلایا گیا ہے اور ان کی اطلاعات کے مطابق متعلقہ کمیٹیوں کے اراکین بریفنگ میں شرکت کریں گے لیکن تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کے اراکین جی ایچ کیو نہیں جائیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ سینیٹ کی دفاع کی کمیٹی کے بھی رکن ہیں کیا اس حیثیت میں وہ جی ایچ کیو کے اجلاس میں شرکت کریں گے تو انہوں نے کہا ’میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں پارلیمان کی سلامتی کمیٹی کا بھی رکن ہوں اور اس حیثیت سے ہم نے جی کیو نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں پروفیسر خورشید نے کہا کہ یہ اداروں کے تصادم کی بات نہیں ہے بلکہ پارلیمانی روایات کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مقامی اخبارات نے سنسنی خیزی پھیلانے کی کوشش کی ہے جبکہ زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔

اسی بارے میں