وزیرستان:متاثرین کی واپسی کا تیسرا مرحلہ

Image caption حکومت نے انہیں اے ٹی ایم کارڈز دیے ہیں لیکن مشینوں میں پیسے نہیں ہیں: متاثرین

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے محسود متاثرین کی واپسی کا تیسرا مرحلہ سترہ اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے تاہم متاثرین کو شکایت ہے کہ ان کو واپس جا کر علاقے میں اشیائے خورد ونوش اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہِ نجات جون سنہ دو ہزار نو شروع میں کیا گیا تھا جس کے لیے محسود قبائل کے تمام علاقوں سے لوگوں کو نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔

محسود قبائل کے علاقے میں فوجی آپریشن کے بعد سے تقریباً چھ لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے جن کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں کوئی کیمپ موجود نہیں تھا اور یہ متاثرین کرائے کے مکانوں، رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ محسود متاثرین کی واپسی کا عمل گزشتہ سال سے جاری ہے جس میں سروکئی سب ڈویژن کے مختلف علاقوں سے ساڑھے پانچ ہزار خاندان اور تقریباً تیس ہزار سے زیادہ افراد واپس جا چکے ہیں اور اب تیسرے مرحلے میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد واپسی کے لیے تیار ہیں جنہیں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

دوسری طرف متاثرین کا کہنا ہے کہ واپسی پر انہیں کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے، ان کے مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور خوراک کی شدید قلت ہے۔

حکومت نے انہیں اے ٹی ایم کارڈز دیے ہیں لیکن مشینوں میں پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو قریبی علاقے میں دوائی ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر۔

سراروغہ کے رہائشی زالے خان ہیبت خیل محسود نے بتایا کہ وہ ایک ماہ قبل اپنے خاندان کے ہمراہ اپنے علاقے میں واپس جا چکے ہیں لیکن ان کی خوشی اس وقت پریشانی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب ان کو دوائی یا خوراک کی ضرورت پڑتی ہے۔

زالے خان کا کہنا تھا کہ علاقے میں مزدوری بھی نہیں ملتی جس سے وہ اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ واپس ٹانک اور ڈی آئی خان جا کرمہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

کنڑ کچہ کے رہائشی رباب خان کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہاں کسی بھی قسم کی سہولت نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو اسے ٹانک یا ڈیرہ اسماعیل خان لانا پڑتا ہے جبکہ علاقے میں بخار کی گولی تک دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پولیٹکل ایجنٹ تک اپنی شکایت نہیں پہنچا سکتے کیونکہ پولیٹکل ایجنٹ سے ملنا ان کی بس میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی دوڑ صرف سٹینو اور بابو تک ہوتی ہے جبکہ پولیٹکل ایجنٹ سے صرف ملک یا کوئی سردار ہی مل سکتا ہے۔

دوسری جانب محسود قبائل کے اسسٹینٹ پولیٹکل ایجنٹ حمید اللہ خٹک کا کہنا ہے کہ محسود متاثرین کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جو متاثرین سترہ اکتوبر سے واپسی کے لیے تیار ہیں وہ ان علاقوں میں جا رہے ہیں جہاں اس سے پہلے بھی لوگ جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ محسود قبائل کے علاقے میں فوج اور پولیٹکل انتظامیہ کے تعاون سے متاثرین کی امداد کے علاوہ تعمیراتی کام بھی جاری ہے جس میں متاثرین کے مکانات کی دوبارہ تعمیر شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بھی تین لاکھ سے زیادہ متاثرین اپنے علاقوں میں واپس نہیں جا سکے ہیں۔

اہلکار کے مطابق اکثر علاقوں میں تعمیرِ نو کا کام جاری ہے اور جب یہ کام مکمل ہوجائے گا تو ان علاقوں میں بھی لوگوں کی واپسی شروع ہو جائےگی۔

دوسری جانب تحریکِ طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف ان کی گوریلا جنگ جاری ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے لدھا سب ڈویژن کے اکثر علاقوں میں متاثرین کی واپسی شروع نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں