بلوچستان: کان میں دھماکہ، دو لاشیں برآمد

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واقعہ کے بعد مقامی افراد نے امدادی کام شروع کر دیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کوئلے کی کان میں دھماکے کےنتیجے میں پانچ کان کن دب گئے جن میں سے دو کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کےمطابق جمعرات کی سہہ پہر کوئٹہ سے چالیس کلومیٹر دور مستونگ کے علاقے دشت ( زڑہ خو) کے مقام پر کوئلے کی ایک کان میں اس وقت دھماکہ ہوا جب وہاں پانچ کان کن کام کر رہے تھے۔

دھماکے کی وجہ سے کان بیٹھ گئی جس کے باعث تمام مزدور کان میں پھنس گئے۔ واقعہ کے بعد مقامی افراد نے امدادی کام شروع کر دیا۔

کوئٹہ میں چیف انسپکٹرمائنز افتخار احمد کے مطابق دھماکے کے بعد متاثرہ علاقے میں امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبرفیڈریشن کے صدر بخت نواب نے کہا ہے کہ متاثرہ مائن میں کام کرنے والوں کان کنوں کا تعلق سوات کے علاقے شانگلہ اور دیر سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ متھین گیس کے باعث پیش آنے والے حادثات میں کان کنوں کے زندہ بچ جانے کے امکانات بہت کم ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال اکیس مئی کو کوئٹہ کے نواحی علاقے سپین کاریز میں متھین گیس کے باعث ایک کان میں دھماکہ ہواتھا جس کے نتیجے میں بیالیس کان کن ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب کوئٹہ میں انسدادِ رشوت ستانی کے جج محمد طارق کاسی کی عدالت نے سابق چیف مائنز انسپیکٹر حبیب اللہ بلوچ اور زیارت کے چیف میڈیکل آفیسر دریا خان کو اڑتالیس لاکھ روپے غبن کرنے کے الزام میں اڑتیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے سنہ دو ہزار پانچ میں صوبائی حکومت کی جانب سے کان کنوں کے امدادی مرکز کے لیے دیے جانے والے پچاس لاکھ روپے میں سے صرف دولاکھ روپے خرچ کیے تھے۔

اسی بارے میں