ڈرون حملے پر خاموشی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تقریباً روزانہ جاری ڈرون حملوں پر حکومتی احتجاج کا سلسلہ تو کب کا دم توڑ گیا ہے لیکن عوامی سطح پر بھی خاموشی کی وجہ ان حملوں کے خلاف تحریک چلانے والے ایک وکیل کے مطابق ’فیشن ایبل’ لبرل طبقے کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ مارے جانے والوں کے کوئی حقوق نہیں۔

ڈرون حملوں کے خلاف اسلام آباد میں اب تک دو رپورٹیں درج کروانے والے مرزا شہزاد اکبر کا بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ اس افسوس ناک صورت حال کا دوسرا پہلوں یہ ہے کہ قبائلیوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے بچوں اور عورتوں کے مارے جانے سے پشاور یا اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کا کوئی سروکار نہیں۔

’انہوں نے لبرل طبقے کو سمجھایا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں تو آواز اٹھا سکتے ہیں لیکن ان کے لیے نہیں جنہیں آپ نے ساٹھ سال سے زائد عرصے سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اس وجہ سے شعور رکھنے والا طبقہ احتجاجی مہم کا حصہ نہیں بن پا رہا ہے۔‘

مرزا شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ان کی کوششوں نے کچھ رنگ دکھایا ہے ’سنہ دو ہزار دس سے قبل ڈرون کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا۔ لیکن ہماری مہم کے آغاز کے بعد سے اب تک چھ سات مظاہرے ہوچکے ہیں۔ پہلی مرتبہ ڈرون میں ہلاک ہونے والوں نے بنوں وزیرستان سڑک کئی گھنٹوں تک بند کر دی تھی۔‘

سنہ دو ہزار دس اور گیارہ میں شہزاد نے بغیر پائلٹ کے امریکی طیاروں کے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف دو رپورٹیں اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹیریٹ میں درج کروا چکے ہیں۔

قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے کریم خان کی جانب سے جن کا بھائی اور بیٹا ایسے ہی ایک مبینہ حملے میں ہلاک ہوئے تھے اسلام آباد میں اس وقت تعینات سی آئی اے کے سٹیشن ڈائریکٹر، اعلی امریکی اہلکاروں لیون پنیٹا اور رابرٹ گیٹس کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔ اسی رپورٹ میں نام آنے کے بعد اسلام آباد میں سی آئی اے کے سربراہ کو ملک چھوڑنا پڑا تھا۔

دوسری رپورٹ ڈرون میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے سات سالہ لڑکے کے والد کی جانب سے سنہ دو ہزار سات میں اسی تھانے میں درج کروائی گئی تھی ۔ لیکن دونوں رپورٹوں پر پولیس نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں مرزا شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ پولیس کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کرکے انہیں تفتیش کے لیے پاکستان بلائے جانے کی کوشش کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کی خاطر انہوں نے رپورٹ کی ایک کاپی انٹرپول کو بھی ارسال کی ہے۔

’ہمارا اگلا قدم یہ ہوگا کہ سی آر پی سی کے تحت سیشن جج سے عدالتی مداخلت کے لیے کوشش کرئیں گے تاکہ پولیس کو عدالت کارروائی کا حکم دے۔‘

عدالت یا پولیس کی حدود سے متعلق ایک سوال پر کہ حملے تو قبائلی علاقوں میں ہو رہے ہیں تو کیا اسلام آباد کی پولیس یا عدالت کے دائرہ اختیار میں یہ بات آتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ پہلی ایف آئی آر میں نامزد ملزم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں موجود تھا جبکہ پولیس کی پہلی کارروائی بھی اسی سفارت خانے سے شروع ہوگی۔

ان کے مطابق دوسری بڑی وجہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کے پاس داد رسی کے لیے مناسب فورم کا نہ ہونا بھی ہے۔ ’کیا قبائلی علاقوں میں پولیس اور عدالتیں موجود ہیں جس سے متاثرین رجوع کرسکیں۔ اسی وجہ سے وہ یہاں آ نے پر مجبور ہیں۔‘

سنہ دو ہزار چار میں پہلے ڈرون حملے کے وقت اس کی حتمی اجازت امریکی صدر پاکستان میں تعینات امریکی سفیر اور دیگر اہلکاروں سے تفصیلی غور کے بعد دیا کرتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ مرزا شہزاد کے مطابق اب لیگل کونسل ہے جو اس کا جائزہ لے کر اہداف کو نشانہ بنانے کی منظوری دیتی ہے۔ اس کا مقصد بقول شہزاد کے امریکی صدر کو براہ راست قانونی پکڑ سے بچانا ہے۔

اسی کونسل کے ایک اہلکار نے جوکہ قانون کے پروفیسر بھی تھے ایک انٹرویو میں گزشتہ دنوں اعتراف کیا تھا کہ اجازت دیتے وقت انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کہ وہ کسی کے قتل کے پروانے پر دستخط کر رہے ہوں۔

اسی بارے میں