’جیلیں عسکریت پسندی کی نشوونما کا زرخیز میدان‘

حیدر آباد عدالت فائل فوٹو

بین الاقوامی تنازعات کے خلاف کام کرنے والے غیرسرکاری عالمی ادارے انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے پاکستان میں جیلوں کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے کہا ہے کہ یہ نظام ملک میں جرائم اور عسکریت پسندی کی نشوونما کا زرخیز میدان بنا ہوا ہے۔

ادارے نے پاکستان کے جیلوں کے نظام کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں جیلوں کا نظام بدعنوان اور ناکارہ ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کا شیرازہ بکھرنے کی بھی ایک اہم وجہ ہے۔

’بے تحاشا قیدیوں سے بھری، عملے کی کمی سے دوچار اور خراب انتظام والی یہ جیلیں جرائم اور عسکریت پسندی کی نشوونما کا زرخیز میدان بن گئی ہیں جو قیدیوں کو رہائی کے بعد جرائم چھوڑنے کے بجائے جرائم کی دنیا میں واپس جانے پر مائل کررہی ہیں۔‘

ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستانی جیلوں کے نظام کو ملک کے فوجداری انصاف کے زوال پذیر شعبے کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جو جرائم کی روک تھام اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں ناکام رہا ہے اور باثر اور طاقتور کو تحفظ اور بے اثر اور غریب لوگوں کے ساتھ امتیاز برتتا ہے۔

ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور اس کے دوست ممالک پولیس اور تفتیش کے شعبوں کی بہتری پر تو زیادہ وسائل خرچ کررہے ہیں لیکن اس عمل میں جیلیں نظر انداز ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ’مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں کے علاوہ پاکستان کے دوست ملکوں کو ملک کے تعزیراتی نظام کی اصلاح کو فوجداری انصاف میں اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیلوں کے سربراہوں اور دوسرے اہلکاروں کے احتساب کے کمزور نظام کی وجہ سے جیلوں کے اندر قیدیوں پر تشدد اور دوسرے بے رحمانہ سلوک عام ہیں اور ان پر شاذونادر ہی توجہ دی جاتی ہے۔

اسکے علاوہ دقیانوسی قوانین اور طریقہء کار، غلط حرکات اور کمزور نگرانی کی وجہ سے اب مقدمات چلائے بغیر لمبے عرصے تک ملزمان کو قید رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جیلیں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق گنجائش کے مقابلے تینتیس ہزار زیادہ قیدی جیلوں میں بند ہیں جن کی اکثریت ان قیدیوں کی ہے جن کے مقدمات عدالتوں میں زیرالتواء ہیں۔‘

ادارے کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اٹھتہر ہزار قیدی ہیں اور ان میں سے پچاس ہزار ایسے ہیں جن کے مقدمات کی سماعت یا تو شروع نہیں ہوئی یا عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔

ادارے نے سزائے موت کا سامنا کرنے والے قیدیوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔

’پاکستان میں جہاں دو درجن جرائم میں موت کی سزا مقرر ہے اور ان میں بھی کئی امتیازی قوانین ہیں، سزائے موت کا سامنا کرنے والے قیدیوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔‘

رپورٹ میں انصاف کے نظام پاکستانی فوج کے کردار کا ذکر کرتے کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران فوج نے ہزاروں افراد کو دہشتگردی کے شبہے میں گرفتار کیا ہے جن میں ہزار ہار افراد ایسے بھی ہیں جنہیں صرف فوجی پالیسیوں کی مخالفت کی بناء پر پکڑا گیا ہے جن کا تعلق خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور قبائلی علاقوں سے ہے۔

’(ان افراد کے ساتھ) فوج کے برتاؤ کے طریقہ کار میں بھی تشدد، اجتماعی سزائیں اور ماورائے عدالت قتل جیسی حرکات شامل ہیں۔ چونکہ یہ طریقہ کار عوام کے اندر بے چینی میں اضافے کا باعث ہیں اس لیے اس سے دہشتگردی میں کمی کے بجائے اضافے کا زیادہ امکان ہے۔‘

رپورٹ میں جیلوں اور حراستی مراکز میں معمولی جرائم کے ملزمان خاص طور پر نوعمر بچوں اور نوجوان افراد کو پیشہ ور مجرموں سے دور رکھنے پر بھی زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اسکی فوری ضرورت ہے۔

آئی سی جی نے عالمی برادری خاص طور پر امریکہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اپنی امداد کا قابل ذکر حصہ جیلوں کی اصلاحات کے لیے مختص کرے اور پاکستانی فوج پر دباؤ ڈالے کہ وہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ صوبے اور قبائلی علاقوں میں فوج اور اسکے خفیہ اداروں کی حراست میں موجود ہزاروں افراد تک انٹرنیشنل ریڈ کراس سمیت ملکی اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں کو رسائی فراہم کرے۔

ادارے نے عالمی برادری سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کی امداد کو غیرقانونی حراست، اجتماعی سزاؤں، تشدد اور ماورائے عدالت قتل جیسے اقدامات کو فوری طور پر بند کرنے سے مشروط کرے۔

آئی سی جی نے حکومت پاکستان سے پاکستان اور خیبر پختونخواہ کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے لیے حال ہی میں نافذ کیے گیے ایکشنز ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشنز 2011 کے علاوہ برسوں پرانے فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز جیسے قوانین کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ان قوانین کی جگہ نئے تعزیراتی قانون، ضابطہء فوجداری اور قانون شہادت نافذ کرے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی مسلمہ قوانین کے مطابق ہوں۔

بی بی سی کے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق آئی سی جی کی یہ رپورٹ ایسے وقت آئی ہے جبکہ حکومت پاکستان کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف معروضی حقائق کے مطابق قانون سازی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور اسے دہشتگردی کے شبہے میں گرفتار اور لاپتہ افراد کی بہت بڑی تعداد کے خلاف مقدمات نمٹانے کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

اسی بارے میں