وزیرستان: مغوی صحافی کی رہائی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رحمت اللہ درپہ خیل کو دو ماہ قبل مسلح افراد نے میرانشاہ بازار سے اغوا کیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو ماہ قبل اغواء کیے گئے سینئر صحافی رحمت اللہ درپہ خیل کو ایک قبائلی جرگے کی کوششوں کے نتیجے میں آزاد کرا لیا گیا ہے۔

میران شاہ کے مقامی صحافیوں نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ رحمت اللہ درپہ خیل کو بدھ کی رات ان کے گھر کے قریب چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مغوی صحافی کی رہائی کے لیے گزشتہ کئی ہفتوں سے ایک جرگے کی طرف سے کوششیں کی جارہیں تھیں اور بالآخر انھیں رہا کر دیا گیا۔

تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ انہیں شدت پسندوں کے کس گروپ نے اغواء کیا تھا اور نہ ہی کسی تنظیم نے اس اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس سلسلے میں رہا ہونے والے صحافی سے بار بار رابطے کی کوششں کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی۔

میران شاہ کے ایک صحافی احسان داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھی کی بازیابی سے مقامی اخبار نویسوں کی جان میں جان آئی ہے اور انھیں کچھ حوصلہ بھی ملا ہے کیونکہ اس سے پہلے تو جو صحافی اغواء ہوتا تھا اس کی پھر لاش ہی ملتی تھی۔

خیال رہے کہ رحمت اللہ درپہ خیل کو دو ماہ قبل مسلح افراد نے میران شاہ بازار سے اغواء کیا تھا۔

اس واقعے سے دو ہفتے پہلے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے تمام صحافیوں کو اس خبر پر دھمکی دی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان نے حکیم اللہ محسود کو شمالی وزیرستان سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں