’اچانک صورتِ حال تبدیل ہو گئی‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عزیز خان کے کئی دوست اردو بولنے والے ہیں

کراچی ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی شاہ فیصل ٹاؤن آتا ہے، اسی ٹاؤن میں پٹھان گوٹھ ہے جہاں عزیز خان بریانی فروش رہتا ہے۔

عزیز کے چھوٹے بھائی رواں برس تین جنوری کو دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔

اس کے بعد رمضان میں ہونے والی شدید فائرنگ کے نشانات آج بھی اس علاقہ کی دیواروں پر موجود ہیں۔

عزیز خان کراچی کے ہی پیدائشی ہیں، مگر بقول ان کے پانچ سال پہلے ہر چیز معمول پر تھی مگر پھر اچانک لوگوں کے ذہن اور صورتحال تبدیل ہوگئی۔

عزیز خان کے کئی دوست اردو بولنے والے ہیں پچھلے دنوں ان کے ایک قریبی دوست کی شادی تھی مگر انہوں نے دوست سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ’یار آؤں گا شادی میں مگر واپسی بوری میں ہوگی۔‘

اسی علاقے کے ایک پٹھان نوجوان شان نے بتایا کہ کے ای ایس سی کا دفتر روڈ کے اس پار ہے اور چونکہ وہ وہاں نہیں جاسکتے اس لیے بلوں کی درستگی کے لیے دوسری قومیت کے لوگوں سے گذارش کرتے ہیں۔

جامعہ ملیہ روڈ پر پٹھان گوٹھ کے سامنے ایک نوجوان محمد شعیب سے ملاقات ہوئی، جنہیں اگست میں نو گولیاں لگیں تھیں، ان نو گولیوں میں سے دو اب بھی ان کے جسم میں موجود ہیں۔

انیس سالہ محمد شعیب پان کی دکان چلاتے تھے مگر ان کے گھر والے اب انہیں دکان چلانے کی اجازت نہیں دیتے اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ شعیب اب دونوں ہاتھوں سے کام نہیں کرسکتے۔

شعیب اس علاقے میں رہتے ہیں جہاں عزیز خان اور شان نہیں آسکتے، جبکہ شعیب کا کہنا تھا کہ وہ سامنے والے علاقے میں نہیں جاسکتا۔

اگست میں مار دہاڑ کے حوالے سے مشہور کٹی پہاڑی سے ملحقہ علاقے میں اردو اور پشتوں بولنے والی آبادی کے گھر آمنے سامنے ہیں اور یہ کوئی ابھی کی نہیں سالوں پرانی بات ہے، مگر اب ان دونوں آبادیوں کے بچے ساتھ میں نہیں کھیلتے اور لوگوں نے بھی غیر اعلانیہ ایک دوسرے کا سماجی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

کٹی پہاڑی کے علاقے میں سکول تو ہیں مگر دوسری قومیت سے تعلق رکھنے والے اساتذہ عدمِ تحفظ کے باعث یہاں نہیں آتے جس کی وجہ سے کئی سکولوں کو چوکیداروں نے آباد کر رکھا ہے۔

کٹی پہاڑی سے ذرا آگے ایک تین منزلہ پکا گھر ہے، جس کا رہائشی بیس سالہ نوجوان کامران تین ماہ قبل اغواء کے بعد قتل کردیا گیا، یہ نوجوان تین بہنوں کا واحد بھائی تھا۔

یہ خاندان نہ پشتو ہے اور نہ ہی اردو بولنے والا۔ یہ پنجابی خاندان خیرپور کے شہر گمبٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ اب یہ خاندان اپنا گھر بیچ کر کسی پر امن جگہ جانا چاہتا ہے مگر علاقے میں دعویدار دونوں گروہ بضد ہیں کہ مخالف فریق کو جگہ فروخت نہ کی جائے۔ اس صورتحال میں کوئی آدھی قیمت میں بھی یہ عمارت لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

تین روز پہلے ایکدم شہر دوبارہ بند ہوگیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے لیکر اب تک پانچ کارکن ہلاک ہوچکے ہیں جو سلسلہ از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ایک ماہ تک رکا رہا تھا مگر’ نامعلوم لوگ‘ پھر سرگرم ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں