کراچی:’انتظامی تقسیم کی تجویز مسترد‘

فائل فوٹو، کراچی میں ہڑتال تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ بچاو کمیٹی نے بلدیاتی نظام کی بحالی کے خلاف ہڑتال اور احتجاج بھی کیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں میں صوبے میں انیس سو اناسی یا دو ہزار ایک کے بلدیاتی نظام کے نفاذ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے کراچی کو تین انتظامی اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی ہے مگر سیاسی جماعتیں اس تجویز کو تسلیم کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔

بلدیاتی نظام: اکثر جماعتوں کا منشور مبہم

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق انسانی حقوق کمیشن نے تجویز پیش کی ہے کہ کراچی کو لیاری۔کیماڑی، ملیر اور کراچی کے نام سے تین اضلاع میں تقسیم کیا جائے اور ان مجوزہ اضلاع میں تین ڈپٹی کمشنروں کا تقرر کیا جائے جو کمشنر کے ماتحت ہوں۔

ایک اور تجویز کے مطابق گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس، سندھ اسمبلی، سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے علاقے کو کیپیٹل ضلعے کا درجہ دیکر اسے براہ راست صوبائی حکومت کے ماتحت کیا جائے۔

بلدیاتی نظام کی مدت پوری ہونے کے بعد اس نظام میں ترمیم کے لیے حکمران پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی کمیٹی بنائی گئی تھی، جس نے تجاویز پیش کرنا تھیں مگر دونوں جماعتوں کا اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے حالیہ علیحدگی کے بعد حکمران پیپلز پارٹی نے سندھ میں کمشنری نظام اور انیس سو اناسی کے بلدیاتی نظام کو بحال کرنے کے لیے سندھ اسمبلی سے بل منظور کرا لیا مگر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی حکومت میں واپسی پر آرڈیننس کے ذریعے یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا، اب اس آرڈیننس کی مدت آٹھ نومبر کو پوری ہو جائے گی۔

بعض مبصرین کراچی میں جاری سیاسی کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بلدیاتی نظام پر اتفاق رائے نہ ہونے کو بھی قرار دیتے ہیں، اس صورتحال میں انسانی حقوق کمیشن نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے کراچی کو تین انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی مگر حکمران اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر نجی عالم کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ ہے کہ کراچی کو کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنا چاہیے۔

’جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام میں کہا گیا تھا کہ اس نظام کا مقصد عدم مرکزیت قائم کرنا ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں کم سے کم پانچ ضلعی کونسل ہونی چاہیں، اس سے لسانی تعصب بھی پیدا نہیں ہوگا۔‘

متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن ایک این جی او ہے اور اس کا یہ کام نہیں ہے کہ فارمولے بنائے یا تجاویز پیش کرے۔

جماعت کے رہنماء واسع جلیل کے مطابق بلدیاتی نظام کے لیے اراکین اسمبلی قانون سازی کریں گے اس لیے یہ کام پارلیمنٹ پر چھوڑنا چاہیے کہ سندھ کے لیے کون سا فارمولا بہتر ہے اور کس چیز کو اپنانا چاہیے۔

عوامی نیشنل پارٹی بھی انسانی حقوق کمیشن کی تجویز سے اتفاق نہیں کرتی، تنظیم کے رہنماء بشیر جان کا کہنا ہے کہ جو نظام پورے ملک میں نافذ ہے اسی نظام کانفاذ صوبہ سندھ میں بھی ہونا چاہیے، اسی طرح یہ نظام ہر ضلعے میں بھی نافذ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیپلز پارٹی کے باغی رہنماء اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی بلدیاتی نظام دو ہزار ایک کے سخت مخالف کے طور پر سامنے آئے ہیں

ان کے مطابق بلدیاتی نظام دو ہزار ایک میں اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کی بات کی گئی تھی مگر کراچی میں بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا گیا اور پونے دو کروڑ لوگوں کی قسمت کا اختیار صرف ایک شخص کے حوالے کر دیا گیا۔’وہ علاقے جو ناظم کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے آج تک پسماندہ ہیں، اس لیے کراچی کو تین نہیں پانچ اضلاع میں تقسیم ہونا چاہیے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے باغی رہنماء اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی بلدیاتی نظام دو ہزار ایک کے سخت مخالف کے طور پر سامنے آئے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ بلدیاتی نظام کا یہ بل اسمبلی سے پاس نہیں ہو سکے گا۔ ڈاکٹر مرزا نے اس بل کی مخالفت کے لیے پیر پگارہ اور جتوئی گروپ سے ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔

ڈاکٹر مرزا کو پیپلز پارٹی کے ناراض اراکان اسمبلی اور دوست وزرا کی حمایت بھی حاصل ہے، اس لیے بلدیاتی نظام کے آرڈینس کی مدت پوری ہونے کے بعد اگر بل اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اس منطور کرانا ناممکن تو نہیں دشوار ضرور ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں