’سٹریٹیجک مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں اہلکاروں نے اپنے تحریری بیانات پڑھے اور صحافیوں کوسوال کرنے کی اجازت نہیں تھی

پاکستان اور امریکہ نے حقانی نیٹ ورک سے متعلق لب کشائی سے گریز کرتے ہوئے سٹریٹیجک مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے جمعرات کو اسلام آباد میں امریکہ کے خصوصی ایلچی مارک گراسمین کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی سطح پر تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر ان تعلقات کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔

وزیرِخارجہ کا کہنا تھا کہ ملاقات میں دو نومبر کو ترکی کے شہر استمبول میں جبکہ پانچ دسمبر کو جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی امن کانفرنس پر بھی غور کیا گیا۔

حنا ربانی کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ علاقے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس موقع پر مارک گراسمین کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قائم کیے جانے والے ٹیکنیکل گروپ کے اجلاس ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ ان شعبوں میں تعاون کو مذید فروغ دیا جاسکے۔

دونوں رہنماوں نے اپنے تحریری بیانات پڑھے اور صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دیے بغیر چلے گئے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات میں مفادات کی نشاندہی کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ امریکہ اور پاکستان سٹریٹیجک مذاکرات کے تحت ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھیں گے۔

مارک گراسمین کے مطابق استمبول اور بون میں ہونے والی امن کانفرنس نہ صرف افغانستان میں امن اور استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ اس کے اثرات علاقے اور پوری دنیا پر بھی مرتب ہوں گے۔

امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان آنے سے پہلے وسط ایشیائی ریاستوں، افغانستان، چین اور بھارت کا بھی دورہ کیا ہے اور ان ممالک نے علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

پاکستان کے ایک روزہ دورے کے دوران مارک گراسمین نے صدر آصف علی زرداری، وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملاقات کی۔

مارک گراسمین کو رچرڈ ہالبروک کی وفات کے بعد رواں سال فروری میں پاکستان اور افغانستان کا خصوصی سفیر مقرر کیا گیا تھا اور یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا پاکستان کا پانچواں دورہ ہے۔

اسی بارے میں