قومی اسمبلی میں بدترین ہنگامہ آرائی

فائل فوٹو، چوہدری نثار علی خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اجلاس کی کارروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دی گئی ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعرات کو پارلیمانی تاریخ کی بدترین ہلڑ بازی، ہنگامہ آرائی، ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کے مناظر اس وقت دیکھنے کو ملے جب اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے خلاف بات کرتے ہوئے ان کا گریبان پکڑنے کی دھمکی دی۔

مسلم لیگ نون اور متحدہ قومی موومنٹ کے بعض اراکین گتھم گتھا ہوگئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو گالیاں اور دھکے دیے۔

مسلم لیگ نون اور متحدہ کے بعض رہنماؤں اور حکمران پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے فریقین کی منت سماجت کی اور انہیں اپنی اپنی نشستوں پر لے گئے۔

مسلم لیگ نون کے عابد شیر علی، حنیف عباسی اور انجم عقیل جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے ساجد علی، آصف حسنین، عبدالرشید گوڈل اور دیگر ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہوئے اپنی نشستوں سے آگے نکل آئے اور صلح صفائی کرنے والے اراکین کو دھکے دے کر آستین چڑھاتے ہوئے ایک دوسرے پر لپکتے رہے۔

پہلی بار مسلم لیگ نون کے اراکین اپنی نشستوں اور ڈیسک پر چڑھ کر ایم کیو ایم کے اراکین کی طرف بڑھتے رہے لیکن انہیں اپنی ہی جماعت کے اراکین روکتے بھی رہے۔

فیصل آباد سے مسلم لیگ نون کے رکن عابد شیر علی نے ایک موقع پر چار روکنے والے اراکین کو دھکا دے کر آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن دیگر اراکین نے انہیں روکا تو وہ نیچے گر گئے۔

مذہبی امور کے وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ اور مسلم لیگ قاف کے رضا حیات ہراج نے کہا کہ یہ پارلیمانی تاریخ کے لیے بدقسمت دن ہے۔

ان کے بقول ایوان میں تنقید اور تلخ باتیں ضرور کریں لیکن پارلیمان کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل اور بردباری کے ساتھ پارلیمانی روایات کا احترام کریں۔

قبل ازیں جب حکومت نے ’دی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد بل2007‘ منظور کرانے کی کوشش کی تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ غیر آئینی بل ہے کیونکہ پنجاب کی زمین کے بارے میں وفاقی حکومت قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ پاکستان کے سب سے بڑے قبضہ مافیا گروپ کی ایک ہاؤسنگ سکیم کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی بنانے کی خاطر یہ قانون سازی ہو رہی ہے۔‘

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے مسلم لیگ نون کو اعتماد میں لیے بنا اکثریت کے بل بوتے پر یہ بل منظور کرنے کی کوشش کی تو وہ ’فزیکل‘ یعنی جسمانی طور پر روکیں گے اور حکومت تائیوان اور جاپان کی اسمبلیوں کے منظر پیدا نہ ہونے دے۔

چوہدری نثار علی خان نے چند روز قبل متحدہ قومی موومنٹ کے حمزہ شہباز کی مبینہ بیوی عائشہ احد ملک کی علیحدگی، گرفتاری اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ کیے جانے کا جو معاملہ اٹھایا تھا، اس تناظر میں کہا کہ یہ ذاتی نوعیت کے معاملہ ہے اور قومی اسمبلی اس مقصد کے لیے نہیں۔

انہوں نے چند روز قبل جب سپیکر فہمیدہ مرزا اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں اس وقت ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کو شرابی اور بدمعاش کہتے ہوئے ان پر تنقید کرنے کا نوٹس لیا اور پیپلز پارٹی کے اراکین کا ضمیر جھنجوڑنے کی کوشش کی کہ ’آپ پارٹی کی خاطر نہ سہی بطور قومی اسمبلی سپیکر تو ان کا دفاع کرتے۔‘

چوہدری نثار علی خان نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کی جو بات کی ہے انہیں یہاں بلا کر ان سے بریفنگ لی جائے۔ انہوں نے فنانشل ٹائمز میں شائع ہونے والی اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دو مئی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد صدر آصف علی زرداری نے امریکی فوج کے اس وقت کے کمانڈر مائیک مولن سے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ فوج ان کا تختہ الٹ دے گی اور صدر اوباما انہیں بچائیں تو وہ ان کے لیے سب کچھ کرسکتے ہیں۔’ان معاملات پر بحث کریں یہ سنگین باتیں ہیں۔‘

انہوں نے الطاف حسین کی جانب سے میاں نواز شریف کے لیے کہی گئی بات کہ ’نواز شریف کا دماغ خراب ہے۔۔۔ایک گولی دی ہے چین آیا یا ایک اور گولی دوں‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ اپنا رویہ ٹھیک کریں۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو فاشِسٹ تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چابی پر چلتی ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ آئندہ اگر انہوں نے ذاتی معاملات اچھالے تو ’ہم سیٹوں پر نہیں بیٹھیں گے بلکہ فزیکل طریقے سے انہیں روکیں گے۔۔ حدود پار کریں گے تو ہمارے ہاتھ ان کے گریبان تک جائیں گے۔‘

اس پر عبدالرشید گوڈل اور دیگر نے کہا کہ ’بدمعاش ہو کیا‘ تو پھر ہنگامہ شروع ہوگیا۔ لیکن بعد میں متحدہ قومی موومینٹ کی جانب سے آصف حسنین نے خلاف توقع محتاط رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کی اسامہ بن لادن سے تعلق، آئی ایس آئی سے رقم لینے، ضیاءالحق کی باقیات قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور ان کے دھرنوں میں کوئی اور جماعت شریک نہیں ہوئی، اس لیے مایوس ہوکر اب جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات سے مسلم لیگ نون خوفزدہ ہے ’مسلم لیگ نون ایک ڈینگی مچھر قابو نہیں کرسکی ملک کیا چلائے گی۔‘

آصف حسنین نے ایک شعر پڑھا کہ’سیاست کی تباہی کا عجب حال ہے آصف۔۔نفرت بھی ہے حکومت سے اور اس کے چکر میں بھی ہے۔‘ جس پر مسلم لیگ نون والوں نے زوردار ڈیسک بجائے کہ یہ تو ایم کیو ایم پر فٹ ہوتا ہے۔ ایم کیو ایم کے نمائندے نے خبردار کیا کہ کوئی اگر انہیں زور بازو پر روکے گا تو یہ ان کی بھول ہوگی۔

قائم مقام سپیکر نے چند روز قبل اور جمعہ کو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف ایم کیو ایم کے نازیبا الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی رولنگ دی اور اجلاس کی کارروائی جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں