مہمند ایجنسی:سرکاری سکول کھلنا شروع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلے روز سکولوں میں اساتذہ اور طلباء کی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ تین سال سے جاری کارروائیوں کے بعد پہلی مرتبہ ایجنسی کے کچھ مقامات پر سرکاری سکولوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

ایجنسی ایجوکیشن آفیسر سید محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ بیزئی اور صافی تحصیلوں میں فوجی آپریشن کے خاتمے اور امن کی بحالی کے بعد تمام سرکاری سکولوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

ایجوکیشن آفیسر کے مطابق حالیہ دنوں میں انہوں نے مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا جہاں تمام مقامات پر حکومت کی عمل داری بحال کر دی گئی ہے۔

سید محمد کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو تین سالوں کے دوران مہمند ایجنسی میں شدت پسندانہ کارروائیوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے پچھتر سکول مکمل طورپر یا جزوی طورپر تباہ کئے گئے جس کی وجہ سے وہاں اب بھی تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیٹکل انتظامیہ نے وعدہ کیا ہے کہ تباہ ہونے سکولوں کے طلباء کو ان کے سکولوں کے قریب قائم مقامی حجروں یا ٹینٹوں میں پڑھایا جائے گا تاکہ ان کا مذید وقت ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

انہوں نے مذید بتایا کہ مہمند ایجنسی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے کل پانچ سو بیاسی سکول قائم ہیں جن میں سے ساٹھ ہزار کے قریب طلباء زیرِتعلیم تھے۔

دوسری جانب مہمند ایجنسی میں خوف و ہراس کی کیفیت بدستور برقرار ہے جس کے باعث پہلے روز سکولوں میں اساتذہ اور طلباء کی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔

ایک مقامی باشندے عبدالاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ ایجنسی کے زیادہ تر علاقوں میں سکیورٹی کا مسئلہ بدستور موجود ہے اور ایسے حالات میں والدین اپنے بچوں کو کسی صورت بھی سکول نہیں بھیجیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر علاقوں میں اساتذہ اور طلباء کو پتہ ہی نہیں کہ سکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔ان کے مطابق جب تک حکومت سکولوں اور اساتذہ کو سکیورٹی فراہم نہیں کرتی اس وقت تک لوگوں کا اعتماد بحال ہونا مشکل ہے۔

ایک سرکاری سکول کے استاد زیارت گل نے بتایا کہ دو سال سے تمام سکول بند تھے جس کی وجہ سے بیشتر اساتذہ علاقہ چھوڑ کر دیگر مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں تعلیمی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کرنے میں حکومت اور عوام کو سخت محنت کرنا پڑی گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سکولوں پر حملوں کے باعث زیادہ تر لڑکیاں اور بچیاں تعلیم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ گئیں ہیں جبکہ جن بچوں کے والدین امیر تھے وہ علاقہ چھوڑ کر یہاں سے جاچکے ہیں۔

ادھر مہمند ایجنسی میں فوجی کارروائیوں اور شدت پسندوں کے خوف کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے اور اب تک سینکڑوں خاندان اپنے علاقوں کو واپس جاچکے ہیں۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ متاثرین کےلیے دو مہاجر کیمپ بنائے گئے تھے جن میں ایک دانش کور کمیپ کو متاثرین کی واپسی کے بعد بند کردیا گیا ہے جبکہ نہکئی کیمپ بھی خالی ہونے کے بعد آئندہ دو تین دنوں میں بند کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں گزشتہ تین سالوں سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران متعدد بارحکومت کی جانب سے علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کے دعوے کئے گئے۔ تاہم اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ عرصہ کی خاموشی کے بعد دوبارہ جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے حال ہی میں طالبان تنطیموں کے خلاف آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ایجنسی میں تشدد کے اکا دوکا واقعات جاری ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے کی طرح اب دن کے وقت طالبان نظر نہیں آتے لیکن رات کے وقت ان کی سرگرمیوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

اسی بارے میں