’تیل خریدنے کے پیسے نہیں 106 ریل گاڑیاں بند‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں ٹرینوں کی کمی کے باعث تہواروں کے موقع پر مسافروں کا رش ہوجاتا ہے۔

پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیرغلام احمد بلور کا کہنا ہے کہ ریلوے کے پاس پینشن دینے اور تیل خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور ملک بھر میں ایک سو چھ ریل گاڑیاں بند کردی گئی ہیں۔

یہ بات انہوں نے پاکستان ریلوے کے وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی طرف سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایک سو پندرہ ریل گاڑیاں بند ہوگئی ہیں اور وہ حکومت کی توجہ عوام میں پائی جانے والی اس گہری تشویش کے معاملے پر مبذول کرانا چاہتے ہیں۔

شیرین ارشد خان اور دیگر اراکین نے سوالات کیے کہ جب ریلوی کا نظام بہتر کرنے پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو آخر یہ نظام بہتر کیوں نہیں ہو رہا۔

حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے کہا کہ رقم کی قلت کی وجہ سے گزشتہ تین روز میں ترپن ریل گاڑیاں بند کردی گئی ہیں اور مجموعی طور پر بند ہونے والی گاڑیوں کی تعداد اب ایک سو چھ ہوگئی ہے۔

تاہم وزیر نے وضاحت کی کہ کوئی روٹ ایسا نہیں جہاں مکمل طور پر گاڑیاں بند کی گئی ہوں۔ ان کے بقول فرض کریں اگر کسی روٹ پر پانچ گاڑیاں چل رہی تھیں تو اس پر اب دو چل رہی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق عالمی بینک ہو یا آڈیٹر جنرل آف پاکستان ان کی رپورٹس کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ریلوے کا خسارے میں رہنے کی سب سے بڑی وجہ بدعنوانی اور بدانتظامی ہے اور اس پر کوئی حکومت قابو نہیں پاسکی۔

وفاقی وزیر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ فی الوقت ایک سو دو ریلوے انجن قابل استعمال ہیں جس میں چھ مال گاڑیوں اور چھیانوے مسافر گاڑیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

بعدازاں متحدہ قومی موومینٹ جو حکومت کی اتحادی جماعت ہے اس کے ایک رکن ساجد احمد نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ بارہ اکتوبر کو ایوان صدر میں ریلوے کے بارے میں اہم اجلاس ہونا تھا جو عین وقت پر ملتوی کردیا گیا۔ ان کے بقول یہ پانچویں بار ہے کہ اجلاس عین وقت پر ملتوی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کے پاس تنخواہ اور تیل کے لیے پیسے نہیں ہیں ساڑھے پانچ سو کے قریب ریلوے انجن خراب پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کا بزنس تو چمک اٹھا ہے لیکن ریلوے خسارے میں ہے۔ ان کے بقول اس سے انہیں شک ہوتا ہے کہ اس میں ٹرانسپورٹ مافیا کا ہاتھ ہے اور ریلوے کے وزیر کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔

یاد رہے کہ متحدہ قومی موومینٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیاں کراچی میں اختلافات کی وجہ سے مار دھاڑ اور الزامات پر مبنی بیان بازی ہوتی رہتی ہے۔

اقتصادی سروے میں دیے گئے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ دو ہزار آٹھ اور نو میں ریلوے کی آمدن تئیس ارب سولہ کروڑ روپے تھی جو پچھلے مالی سال کی نسبت سولہ فیصد زیادہ تھی لیکن اس کے باوجود بھی ریلوے مسلسل خسارے میں ہے۔

اسی بارے میں