’جمہوری حکومت کے لیے سیاسی جگہ تنگ ہوئی‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر نے دونوں ملکوں کے درمیان ان کے بقول واضح طور پر طے شدہ شراکت داری کے قاعدوں کی پاسداری کرنے پر زور دیا: صدارتی ترجمان

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عوامی سطح پر دیے جانے والے ایسے پیغامات سے جو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے کمزور ہونے کا تاثر پیدا کرتے ہیں، جمہوری حکومت کے لیے سیاسی جگہ بھی تنگ ہوئی ہے۔

ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق صدر نے یہ بات جمعرات کی شب پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے مارک گروسمین سے ملاقات کے دوران کہی۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق ملاقات کے دوران صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین ایسے عوامی اعلانات سے اجتناب برتیں جو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر منفی اثر ڈالیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سودے بازی پر مبنی کے بجائے ایک دوسرے کے احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی طویل المدت شراکت داری قائم ہونی چاہیے۔

ترجمان کے مطابق صدر نے دونوں ملکوں کے درمیان ان کے بقول واضح طور پر طے شدہ شراکت داری کے قاعدوں کی پاسداری کرنے پر زور دیا گیا۔

دونوں رہنماوں کے مابین ملاقات میں پاک امریکہ باہمی تعلقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال، افغانستان کی صورتحال اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور رابطہ سازی کی ان تمام کوششوں کی حمایت کرے گا جو خطے کے زمینی حقائق کے مطابق ہوں گی۔

اس سے پہلے اسلام آباد میں امریکی ایلچی مارک گراسمین اور پاکستانی وزیر خارجہ نےایک مشترکہ نیوز کانفرس میں حقانی نیٹ ورک سے متعلق لب کشائی سے گریز کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی سطح پر تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور شدت پسندی کے خلاف جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر ان تعلقات کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔

وزیرِخارجہ کا کہنا تھا کہ ملاقات میں دو نومبر کو ترکی کے شہر استنبول میں جبکہ پانچ دسمبر کو جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی امن کانفرنس پر بھی غور کیا گیا۔

حنا ربانی کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ علاقے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں اہلکاروں نے اپنے تحریری بیانات پڑھے اور صحافیوں کوسوال کرنے کی اجازت نہیں تھی

اس موقع پر مارک گراسمین کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قائم کیے جانے والے ٹیکنیکل گروپ کے اجلاس ماضی کی طرح مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ ان شعبوں میں تعاون کو مذید فروغ دیا جاسکے۔

دونوں رہنماوں نے اپنے تحریری بیانات پڑھے اور صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دیے بغیر چلے گئے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات میں مفادات کی نشاندہی کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ امریکہ اور پاکستان سٹریٹیجک مذاکرات کے تحت ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھیں گے۔

مارک گراسمین کے مطابق استمبول اور بون میں ہونے والی امن کانفرنس نہ صرف افغانستان میں امن اور استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ اس کے اثرات علاقے اور پوری دنیا پر بھی مرتب ہوں گے۔

امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان آنے سے پہلے وسط ایشیائی ریاستوں، افغانستان، چین اور بھارت کا بھی دورہ کیا ہے اور ان ممالک نے علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

پاکستان کے ایک روزہ دورے کے دوران مارک گراسمین نے صدر آصف علی زرداری، وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملاقات کی۔

مارک گراسمین کو رچرڈ ہالبروک کی وفات کے بعد رواں سال فروری میں پاکستان اور افغانستان کا خصوصی سفیر مقرر کیا گیا تھا اور یہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا پاکستان کا پانچواں دورہ ہے۔

اسی بارے میں