کوئٹہ: پی ایم اے کے صدرہلاک، ڈاکٹروں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بلوچستان میں جاری شورش کی وجہ سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایش کوئٹہ کے صدر مزار خان بلوچ قاتلانہ حملے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

انہیں جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے کوئٹہ میں فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

دوسری جانب مزار خان بلوچ کی ہلاکت کے خلاف ڈاکٹروں نے سینچر کو سرکاری ہسپتالوں کا بائیکاٹ کیا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پی ایم اے کوئٹہ کے صدر ڈاکٹر مزار خان بلوچ کو سنیچر کی صبح وزیرِ اعلی بلوچستان کے خصوصی طیارے میں کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا جہاں وہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں چند گھنٹوں زیرِ علاج رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

بلوچستان: ٹارگٹ کلنگ کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال

ان کی میت کو ان کے آبائی علاقے مشکے روانہ کردیا گیا ہے جہاں انہیں اتوار کی صبح سپرد خاک کردیا جائے گا۔

ڈاکٹرمزار خان بلوچ کو سنیچر کی رات کوئٹہ کی مسجد روڈ پر اس وقت نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کےشدید زخمی کر دیا تھا جب وہ اپنے کلینک سے گھر جا رہے تھے۔

واقعہ کے خلاف پی ایم اے بلوچستان اور بلوچ ڈاکٹرز فورم نے تین روزہ سوگ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں سرکاری ہسپتالوں کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بلوچ ڈاکٹرز فورم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر آصف نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں