’رات کمرے میں اور دن پہاڑی نالے میں گزرے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption طالبان نے با جوڑ ایجنسی سے عید کے روز دو درجن سے زیادہ لڑکوں کو اغوا کر لیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سرحد کے اس پار سے طالبان کی قید سے فرار ہونے والے سولہ سالہ بچے کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران انہیں رات کو کمرے میں اور دن کو ایک پہاڑی نالے میں لے جایا کرتے تھے۔

طالبان کی قید سے فرار ہونے والے دو بچوں میں سے ایک سولہ سالہ عبداللہ کا تعلق گاؤں مانوند کے علاقے ڈمبوری سے ہے جبکہ امان اللہ کا تعلق ترخوں سے بتایا جاتا ہے۔

دونوں بچے طالبان شدت پسندوں کے چنگل سے بھاگ کر اپنے گاؤں ماموند پہنچ گئے ہیں۔ سولہ سالہ عبداللہ نے بی بی سی کو اپنی گرفتاری اور پھر بھاگنے کا داستان کچھ یوں سُنائی ہے۔

ڈمبوری کے رہائشی سولہ سالہ عبداللہ نے بتایا کہ انہیں عیدالفطر کے دوسرے دن ماموند کے قریب ایک پہاڑی چوٹی سے سرحد کے اُس پار پانی پینے کے لیے چشمے پر جاتے ہوئے ہیں مُسلح طالبان نے اغواء کر لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’جب ہم چشمے پر پہنچے تو بعض بچوں نے لمبے لمبے بالوں والے مُسلح طالبان کو دیکھ کر چیخ و پُکار شروع کی کہ ’طالبان ہےطالبان ہے‘ جس کے بعد ہم نے جان بچانے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کی لیکن ہم وہاں سے نکلنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور طالبان کے گھیرے میں آگئے۔‘

عبداللہ کے مطابق طالبان سے قدرے فاصلے پر موجود بچے واپس بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

عبداللہ کا کہنا تھا کہ مُسلح طالبان کی بڑی بڑی داڑھیاں اور بڑے بڑے بال تھے اور ان کی تعداد صرف چار تھی۔ ’وہ گرفتاری کے بعد ہمیں پیدل ساتھ لے گئے اور ایک گھنٹے سے زیادہ مُسافت طے کرنے کے بعد ہمیں ایک نامعلوم مقام پر پہنچایاگیا جہاں پر ہمیں تین ٹولیوں میں تقسیم کر کے تین مختلف علاقوں میں رکھا گیا۔دن رات مُسلح طالبان پہرہ دے رہے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ جس علاقے میں انہیں رکھا گیا تھا وہاں چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلے تھے جن کے درمیان مکئی کے کھیت تھے جہاں ان کو صُبح و شام پیشاب کے لیے لے جایا جاتاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں رات کو کمرے میں اور دن کو کسی پہاڑی نالے میں رکھا جاتا تھا۔

عبداللہ کے مطابق جس جگہ انہیں رکھا گیا تھا اس مقام سے کچھ دور فاصلے پر ایک چھوٹی سی آبادی نظر آتی تھی جو چند ہی گھروں پر مُشتمل تھی لیکن اس آبادی کے لوگ کبھی بھی ان کے پاس نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حراست کے دوران فضاء میں انہوں نے جنگی جہازوں کی آوازیں سنیں اور ڈرون طیاروں کو دیکھا ہے۔

عبداللہ کا کہنا تھا کہ جو طالبان ان پر پہرہ دے رہے تھے ان کی زبان ان کے علاقے باجوڑ جیسے لگ رہی تھی لیکن ان میں سے وہ کسی کو بھی نہیں جانتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان کی تحویل میں ان کے چالیس سے زیادہ دن گُزر گئے اس تمام عرصے میں نہ ان کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور نہ ہی ان کی آنکھوں کو بند کیاگیا۔ عبداللہ کے مطابق جب اُن کے کپڑے میلے ہوجاتے تو طالبان انہیں کپڑے دے دیتے اور اُن کے کپڑوں کی دُھلائی طالبان ہی کرتے تھے۔

عبداللہ نے بتایا کہ قید کے دوران ان کو ماں باپ بُہت زیادہ یاد آتے تھے اور وہ یہ سوچ رہے تھے کہ ان کے زندگی کا کیا بنےگا۔ بقول عبداللہ طالبان ان کو ناشتے میں چائے کے ساتھ سُوکھی روٹی دے رہے تھے اور دوپہر و شام کو ٹھنڈے چاول یا لوبیا کا اہتمام کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چالیس دنوں میں ایک دن طالبان نے بکرا ذبح کیا تھا اور اس دن انہوں نے بھی بکرے کا گوشت کھایا تھا۔

عبداللہ نے مزید بتایا کہ حراست کے دوران وہ طالبان کو یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ وہاں طالبان کے ساتھ بُہت خوش ہیں اور کبھی بھی واپس جانا پسند نہیں کریں گے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے طالبان کا رویہ قدرے نرم ہو گیا اور انہیں پیشاپ کے لیےدُور تک جانے کی اجازت دے دی۔

عبداللہ نے بتایا ’ایک صُبح میں اور امان اللہ ایک پہاڑی نالے میں پیشاب کے بہانے چلے گئے جب وہ طالبان کے نظر سے چُھپ گئے تو وہ فوراً بھاگ گئے تھوڑی دیر بعد ہم نے تین مُسلح طالبان کوہمارا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا لیکن ہم پہاڑی ندی نالوں اورجھاڑیوں میں چھپ چھپ کر آگے بڑھتے رہے۔‘

عبداللہ کا کہنا ہے کہ جب وہ بھاگ رہے تھے تو طالبان نے عقب سے ان پر فائرنگ نہیں کی۔

’تین گھنٹے کی مُسافت طے کرنے کے بعد ہم ایک پہاڑی چوٹی پر پہنچ گئے جہاں سے دُور ایک دوسرے پہاڑی چوٹی پرخاکی وردیوں میں ملبوس کچھ لوگ نظر آئے جو افغان فورس کے اہلکار معلوم ہورہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دو گھنٹے کے مزید سفر کے بعد انہیں ایک اور پہاڑی سلسلے میں کچھ فاصلے پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار نظر آنے لگے لیکن انہوں نے ان سے چُھپنے کی کوشش کی اور وہ ایک نالے میں دور نکل گئے۔

شام چار بجے وہ اپنے گاؤں ماموند پہنچ گئے۔ انہوں نے نو گھنٹے کا سفر کیا تھا لیکن اپنے گاؤں پہنچنے پر جب انہوں اپنے ماں باپ کو دیکھا تو ان کی تھکاؤٹ دور ہوگئی۔

عبداللہ کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً چالیس دن سے روزانہ موت کو اپنی آانکھوں سے دیکھتا تھا اور اب وہ اتنا خوش ہے کہ اگر وہ دن رات مزدوری کرے تو تھکاوٹ محسوس نہیں کرے گا۔

اسی بارے میں