فصیح بخاری نیب کے نئے سربراہ مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستانی بحریہ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ ایڈمرل فصیح بخاری کو قومی احتساب بیورو یا نیب کا سربراہ مقرر کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا ہے۔

وزیر اعظم سیکریٹریٹ سے اتوار کی شب جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صدر نے یہ حکم وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد جاری کیا ہے۔

ایڈمرل فصیح بخاری نے اکتوبر 1999ء میں اپنے عہدے سے استعفی دیدیا تھا۔ کہا جاتا ہے اسکی وجہ ان کے اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف سے اختلافات تھے جو ان سے بہت جونیئر تھے۔

فصیح بخاری ریٹائرمنٹ کے بعد صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں فوج کے زیر انتظام زرعی فارموں کے کسانوں کے حق میں بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ نون کو نیب کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جسٹس دیدار حسین شاہ کی طرح مسٹر بخاری کی نامزدگی پر بھی اختلاف ہے۔

اس سے پہلے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نئے سربراہ کے تجویز کردہ نام پر حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون کے اعتراضات کو مسترد کر دیا تھا۔

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نون کے رہنماء اور قائدِ حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی خان نے ایک خط کے ذریعے حکومت کو اپنے اعتراضات بھیجے تھے۔

انہوں نے لکھا تھا کہ نیب کے سربراہ کے انتخاب کے لیے آئینی طریقۂ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لینے کے لیے تین اہل شخصیات کے نام تجویز کیے جائیں جبکہ حکومت نے محض ایک شخصیت پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کو ہی نیب کا چیئرمین منتخب کر لیا ہے۔

ایوانِ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے چوہدری نثار علی خان کو جوابی خط میں فصیح بخاری کے انتخاب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے چیئرمین کو سنہ انیس سو ننانوے کے نیب آرڈیننس کے تحت نامزد کیا گیا ہے اور اس کی کسی بھی طور پر خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔

اس آرڈیننس کے سیکشن چھ کی شق ’بی اے‘ کے مطابق نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ چیف جسٹس، مسلح افواج کا لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کا ریٹائرڈ افسر یا وفاقی حکومت کا بائیس گریڈ یا اس کے مساوی ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہونا چاہیے۔

خط کے مطابق صدر نے قائد حزب اختلاف کو آگاہ کیا تھا کہ کس ایک شخصیت پر بامعنی مشاورت کی جا سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے آپ کو کھلے دل سے اس میں شامل کیا گیا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کے اس موقف کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کہ انھیں مشاورت کے لیے ناموں کا ایک پینل بھیجا جائے۔

صدر زرداری نے امید ظاہر کی ہے کہ ایڈمرل ریٹائر فصیح بخاری بحیثیت چیئرمین نیب بہترین انداز میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کو دس مارچ سنہ 2011 کو غیر آئینی قرار دیا تھا جبکہ ڈپٹی چیئرمین نیب کے چیئرمین کے اختیارات استعمال کرنے سے متعلق عدالت نے اکیس جون کو سنائے گئے فیصلے میں حکومت کو نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی تھی جو اکیس جولائی کو ختم ہوگئی تھی۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید قاضی کو ایک ماہ تک بطور چیئرمین نیب اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ایک ماہ کے بعد وہ چیئرمین نیب کے اختیارات استعمال نہیں کر سکیں گے۔

اسی بارے میں