چیئرمین نیب کے نام پر اعتراضات مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے نیب یعنی قومی احتساب بیورو کے نئے سربراہ کے تجویز کردہ نام پر حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون کے اعتراضات کو مسترد کر دیا ہے۔

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نون کے رہنماء اور قائدِ حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی خان نے ایک خط کے ذریعے حکومت کو اپنے اعتراضات بھیجے تھے۔

انہوں نے لکھا تھا کہ نیب کے سربراہ کے انتخاب کے لیے آئینی طریقۂ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لینے کے لیے تین اہل شخصیات کے نام تجویز کیے جائیں جبکہ حکومت نے محض ایک شخصیت پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کو ہی نیب کا چیئرمین منتخب کر لیا ہے۔

ایوانِ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے چوہدری نثار علی خان کو جوابی خط لکھا ہے جس میں فصیح بخاری کے انتخاب کی وضاحت کی گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ نیب کے چیئرمین کو سنہ انیس سو ننانوے کے نیب آرڈیننس کے تحت نامزد کیا گیا ہے اور اس کی کسی بھی طور پر خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔

اس آرڈیننس کے سیکشن چھ کی شق ’بی اے‘ کے مطابق نیب کا چیئرمین سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ چیف جسٹس، مسلح افواج کا لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کا ریٹائرڈ افسر یا وفاقی حکومت کا بائیس گریڈ یا اس کے مساوی ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہونا چاہیے۔

خط کے مطابق صدر نے قائد حزب اختلاف کو آگاہ کیا تھا کہ کس ایک شخصیت پر بامعنی مشاورت کی جا سکتی ہے اور اس مقصد کے لیے آپ کو کھلے دل سے اس میں شامل کیا گیا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف کے اس موقف کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کہ انھیں مشاورت کے لیے ناموں کا ایک پینل بھیجا جائے۔

’اعلیٰ عدلیہ کے متعدد فیصلوں کے مطابق چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے بامعنی مشاورت ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے ضروری نہیں کہ کئی نام یا پینل بھیجا جائے، صرف ایک نام پر مشاورت کی جا سکتی ہے جو آپ سے کھلے دل سے گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

عدلیہ کے فیصلے کے نفاذ کے لیے وفاقی حکومت کا تجویز کردہ ایک بل قومی اسمبلی میں موجود ہے اور یہ بل اراکین پارلیمان کے زیرغور ہے اور اس صورت میں چیئرمین نیب کا نام سنہ انیس سو ننانوے کے موجودہ قانون کے مطابق تجویز کیا گیا ہے۔

صدر زرداری نے مزید لکھا کہ چوہدری نثار نے فصیح بخاری کی شخصیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ وہ نیب کی سربراہی کے لیے موزوں شخصیت ہیں۔

صدر زرداری کے مطابق امید ہے کہ نامزد کرچہ چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائر فصیح بخاری بہترین انداز میں اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کی تعیناتی کو دس مارچ سنہ 2011 کو غیر آئینی قرار دیا تھا جبکہ ڈپٹی چیئرمین نیب کے چیئرمین کے اختیارات استعمال کرنے سے متعلق عدالت نے اکیس جون کو سنائے گئے فیصلے میں حکومت کو نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی تھی جو اکیس جولائی کو ختم ہوگئی تھی۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے ڈپٹی چیئرمین نیب جاوید قاضی کو ایک ماہ تک بطور چیئرمین نیب اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ایک ماہ کے بعد وہ چیئرمین نیب کے اختیارات استعمال نہیں کر سکیں گے۔