طالبان کمانڈروں میں رابطے کا فقدان

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خیال کیا جا رہا ہے کہ تحریک طالبان میں شامل کچھ علاقوں کے کمانڈروں نے الگ دھڑے بنا لئے ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک پہلی مرتبہ اس کی جانب سے ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے جس سے بظاہر اس تنظیم کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔

تنظیم کے نائب امیر اور باجوڑ طالبان کے اہم عسکریت پسند کمانڈر مولوی فقیر محمد نے چند دن قبل بی بی سی سے گفتگو میں اس بات کو واشگاف الفاظ میں واضح کیا تھا کہ ’ اگر امریکہ نے پاکستان پر حملہ کیا تو تحریک آنکھ بند کرکے حکومت کا ساتھ نہیں دے گی بلکہ وہ اس بات کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرےگی۔‘

طالبان سے مذاکرات کی قانونی حیثیت

انہوں نے پہلی مرتبہ پاکستان کی افغانستان میں پالیسی کو بھی ’دوغلہ‘ قرار دیا تھا اور اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن کی طرف سے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے گئے تھے۔ اس کےعلاوہ ملکی اور بین الااقوامی ذرائع ابلاغ میں ایک ایسا تاثر دیا جارہا تھا کہ جیسے امریکہ پاکستان میں ایبٹ آباد طرز کی کوئی کاورائی کرنے والی ہے۔

دو ہزار سات میں جب تحریک طالبان پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو ابتداء میں اس تنظیم میں شمالی وزیرستان کے بعض اہم طالبان کمانڈر شامل تھے لیکن بعد میں یہ جنگجو کسی نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس تنظیم سے الگ ہوگئے۔

تنظیم کے شروع کے بیانات اور ذرائع ابلاغ کو جاری کئے گئے اعلامیوں سے ایسا لگتا تھا کہ جیسا اس تنظیم کا وجود ہی امریکہ کے خلاف عمل میں لایا گیا ہو یا باالفاظ دیگر اس کا بنیادی مقصد ہی افغانستان میں موجود امریکی افواج یا ان کے اتحادیوں کے خلاف ’جہاد‘ کرنا ہے۔

پاکستان میں یہ عام تاثر عام ہے کہ جہادی اور کالعدم تنظیموں کے آپس میں اختلافات تو ہوسکتے ہیں لیکن کم سے کم امریکہ کے خلاف جنگ میں یہ تمام تنظیمیں بغیر کسی اختلاف کے آپس میں متحد ہیں بلکہ یہ مسلح گروہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’جہاد‘ کو اپنا دینی فریضہ سمجھتا رہا ہے۔

جب تک تنظیم کے بانی سربراہ بیت اللہ محسود زندہ تھے اس وقت تک تحریک طالبان القاعدہ جیسے ’عالمی جہاد‘ کے نعرے لگاتی تھی۔ تنظیم کے مرکزی ترجمان مولوی عمر کے کئی بیانات اب بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس میں وہ یورپ اور دیگر ممالک میں کاروائیوں کی بات کرتے تھے یا وہاں اپنے جنگجوؤں کو بھیجنے کے دعوے بھی کرتے تھے۔

لیکن بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ان واقعات کے تناظر میں ایک ایسا بیان دینا جس میں امریکہ کے خلاف لڑائی میں کسی ’شک وشبہ‘ کا اظہار کیا گیا ہو تو کیا اس کو تنظیم کی پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ سمجھا جائے یا اس کا کوئی اور مطلب ہے؟

بتایا جاتا ہے کہ ماضی میں شاید تحریک طالبان کے کچھ گروہ پاکستانی ادراوں کے کنٹرول میں تھے لیکن بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ان کے درمیان میں یہ تعلق اب ختم ہوچکا ہے۔

شعبہ صحافت پشاور یونیورسٹی کے لیکچرار اور تـجزیہ نگار سید عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائیوں کی وجہ سے انھیں پاک افغان سرحدی علاقوں کی جانب دھکیل دیا گیا ہے جسکی وجہ سے وہ فوج کے سخت مخالف ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان گروہ یہ سمجھتے ہیں کہ پہلے ان کا ’دشمن پا کستان‘ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی پالیسی پہلے جیسے نہیں رہی جب وہ ہر دوسرے بیان میں امریکہ کے خلاف جہاد کی بات ضرور کرتے تھے۔

بعض سکیورٹی ادارے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ تحریک کے بعض دھڑوں کو اب مبینہ طورپر امریکہ اور افغان حکومت کی حمایت حاصل ہے اسی وجہ سے ان دھڑوں کے بیانات میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم طالبان تنظمیں ایسے الزامات کی سخت ترین الفاظ میں تردید کرتی رہی ہے۔

اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار کی ایک رپورٹ میں یہاں تک دعوی کیا گیا کہ مولوی فقیر محمد نے حال ہی میں افغان خفیہ اداروں کے تعاون سے سے ہندوستان کا دورہ کیا ہے تاہم طالبان کی طرف سے اس خبر کی ابھی تک کوئی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

کچھ عرصہ سے یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ تحریک طالبان کے کمانڈروں میں رابطے کا بھی شدید فقدان بھی پایا جاتا ہے جبکہ یہ بات اب بھی زور دے کر کہی جارہی ہے کہ تحریک طالبان میں شامل کچھ علاقوں کے کمانڈروں نے الگ دھڑے بنا لئے ہیں اور وہ اب بظاہر وزیرستان کے بااثر کمانڈروں کے زیر اثر نہیں رہے۔

پچھلے کچھ عرصہ سے تحریک طالبان کا گڑھ کہلانے والے علاقے وزیرستان یا جسے ’ امارات طالبان‘ بھی کہا جاتا رہا ہے وہاں سے تنظیم کا کوئی پالیسی بیان سامنے نہیں آیا ہے بلکہ زیادہ تر اہم بیانات نائب امیر مولوی فقیر جاری کرتے رہے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ مولوی فقیر بدستور تحریک کے نائب امیر مانے جاتے ہیں لیکن دوسری طرف کچھ علاقوں کے طالبان مولوی فقیر کو شک و شبہ کے نظر سے بھی دیکھتے رہے ہیں اور ان پر میڈیا میں الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔

حکومت کی طرف سے طالبان کو مزاکرات کی جو حالیہ پیش کش کی گئی ہے اس کو مولوی فقیر کے گروپ نے یکسر مسترد کردیا ہے جبکہ تحریک طالبان وزیرستان کے اہم کمانڈر مفتی ولی الرحمان نے اس پر مشروط رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ تحریک طالبان کا حصہ سمجھے جانے والے سوات اور مالاکنڈ کے طالبان نے بھی مزاکرات کےلیے مشروط رضامندی ظاہر کردی ہے۔

اسی بارے میں