سینئر صحافی حمید اختر انتقال کر گئے

حمید اختر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اخبار ’آزاد‘ کی پالیسی کے باعث بھٹو جیسی عوامی طاقت سے ٹکر لینی پڑی

پاکستان کے بزرگ صحافی، کالم نگار، ادیب، ترقی پسند کارکن اور فلم ساز حمید اختر اتوار کی شب لاہور کے شوکت خانم میموریل ہسپتال میں دم توڑ گئے۔

حمید اختر برسوں سے کیسنر کے موذی مرض کا مقابلہ کر رہے تھے اور چند برس امریکہ میں زیر علاج بھی رہے تھے جس کی بدولت یہ آفت دس پندرہ برس تک ٹلی رہی لیکن گزشتہ دو برس سے سرطان نے پھر سر اٹھانا شروع کردیا تھا۔

آج سے اٹھاسی برس پہلے ضلع لدھیانہ میں پیدا ہونے والے حمید اختر معروف شاعر ساحر لدھیانوی کے بچپن کے دوست تھے اور ابن انشاء سے بھی ان کی شناسائی نوجوانی ہی میں ہوگئی تھی۔

حمید اختر ایک دراز قد اور خوب رو نوجوان تھے۔ آواز بھی جان دار تھی۔ دوستوں کا خیال تھا کہ بمبئی جا کر فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ یہ خیال کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا کیونکہ بمبئی میں اچھی آواز والے خوبرو نوجوانوں کی ہیمشہ مانگ رہتی تھی۔ حمید اختر وہاں گئے اور ’آزادی کی راہ پر‘ نامی ایک فلم میں سائیڈ ہیرو کا رول بھی ادا کیا لیکن فلمی زندگی ان کے ترقی پسندانہ عزائم کا ساتھ نہ دے سکی اور وہ انجمن ترقی پسند مصنفیں کے لیے کل وقتی کام کرنے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حمید اختر کے سوگواروں میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں

بمبئی میں قیام کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ کرشن چندر، سجاد ظہیر، سبط حسن اور ابراہیم جلیس جیسے ترقی پسندوں سے ان کی براہ راست شناسائی ہوگئی اور یہ تعلق آخر تک قائم رہا۔

تقسیم ہند کے بعد حمید اختر پاکستان آگئے لیکن اشتراکی خیالات رکھنے والے دانشوروں پر تب برا وقت آیا ہوا تھا چنانچہ دیگر ترقی پسند ادیبوں کی طرح حمید اختر بھی گرفتار ہوئے اور دو سال کے لیے کال کوٹھری میں ڈال دیے گئے۔

انیس سو ستر میں انہوں نے آئی اے رحمان اور عبداللہ ملک کے ساتھ مل کر روزنامہ ’آزاد‘ جاری کیا جو کہ بائیں بازو کے آزاد خیال گروپ کا ترجمان تھا اور انتخابات کے نتائج پر عمل کرتے ہوئے مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ کو عنان حکومت سونپنے کی حمایت کرتا تھا۔ اس پالیسی کے باعث اخبار کو بھٹو جیسی عوامی طاقت سے ٹکر لینی پڑی جس کے نیتجے میں سخت مالی مشکلات کا شکار ہونے کے بعد یہ اخبار بند ہوگیا۔

ایک فری لانس صحافی کے طور پر حمید اختر نے اپنا کام جاری رکھا۔ آخری ایام میں وہ روزنامہ ایکسپریس کے لیے روزانہ کالم لکھتے تھے۔ ایام اسیری کی یادوں کو انہوں نے اپنی کتاب ’کال کوٹھری‘ میں رقم کیا ہے اور ترقی پسند ساتھیوں کے خاکے بھی احوال دوستاں کے نام سے محفوظ کیے ہیں۔

حمید اختر کے سوگواروں میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں، دو بیٹیاں بیرون ملک آباد ہیں جبکہ بڑی بیٹی صبا حمید پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف فنکارہ ہیں۔