باڑہ جھڑپ: نو اہلکاروں سمیت 23 ہلاک

خیبر ۔ فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حملے میں فرنٹیئر کور کے نو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپ میں سولہ شدت پسند اور نو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پشاور میں فرنٹیئر کور کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی شام باڑہ سب ڈویژن کے علاقے آکاخیل میں پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز علاقے میں گشت کر رہے تھے کہ اس دوران ان پر شدت پسندوں کی طرف سے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں فرنٹیئر کور کے نو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی جس میں ان کے بقول سولہ شدت پسند مارے گئے۔ تاہم مقامی ذرائع سے عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ادھر دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہوا ہے جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

انہوں نےکہا کہ درجنوں مسلح عسکریت پسندوں نے شام کے وقت آکاخیل کے علاقے میں قائم سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر چاروں اطراف سے حملہ کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ سکیورٹی فورسز کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

خیال رہے کہ باڑہ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں اور قافلوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں