پبلک اکاونٹس کمیٹی کی عمدہ کارکردگی کی تعریف

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی چودھری نثار علی کی کارکردگی کو سراہا گیا

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی‘ کی کارکردگی کے حوالے سے حکومت اور حزب مخالف ایک دوسرے کو سراہتے رہے اور پارلیمان کی توقیر بڑھانے کی باتیں بھی کرتے رہے لیکن آخر تک دونوں ایک دوسرے کو چکمہ دینے کے چکر میں بھی رہے۔

یہ چکمہ دینے کا معاملہ ایک متنازعہ بل ’ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی بل دو ہزار سات‘ کے بارے میں تھا، جو حکومت منگل کو نجی کارروائی کے دن منظور کرانا چاہتی تھی۔مسلم لیگ (ن) اس بل کی مخالف ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ایک بڑے قبضہ مافیا کی ہاؤسنگ کالونی جو پنجاب کی زمین پر قائم ہے، اُسے ’ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی‘ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے عددی اکثریت کی بنا پر یہ بل منظور کرانے کی کوشش کی تو ان کی جماعت اُسے روکنے کی ’فزیکل‘ کوشش کرے گی۔

حکومتی بل نجی کارروائی کے دن ایجنڈا پر رکھنے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے اراکین بھرپور انداز میں آخر تک ایوان میں موجود رہے اور چوہدری نثار علی خان بھی اپنے چیمبر میں اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے تک بیٹھے رہے۔

منگل کو فوجی ہیڈ کوارٹر میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دفاع کے بارے میں قائمہ کمیٹیوں کے اراکین کے لیے قومی سلامتی کے متعلق بریفنگ کا اہتمام کیا گیا لیکن مسلم لیگ (ن) کے اراکین اس بل کی منظوری کے خدشے کے پیش نظر اس اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے۔

حکومت خلاف توقع جب رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد بھی اجلاس چلاتی رہی تو یہ خدشہ پیدا ہوا کہ شاید حکومت اپوزیشن کو تھکا کر اجلاس سے چلے جانے کے انتظار میں ہے تاکہ وہ بل منظور کرا لیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین جمائیاں لینے کے باوجود بھی ایوان میں موجود رہے۔

قومی اسمبلی کی منگل کی کارروائی کی سب اہم بات تھی مسلم لیگ (ق) کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر دونیہ عزیز کا خواتین کے خلاف غلط روایات کو روکنے کے بارے میں بل، جو بدقسمتی سے منظور نہیں ہوسکا۔ اس بل میں انہوں نے تجویز کیا ہے کہ قرآن سے شادی نہ کی جائے، ونی میں صلح کے بدلے کسی کی شادی نہ کی جائے، جبری شادیاں روکی جائیں اور وراثت میں خواتین کو حق دیا جائے۔

انہوں نے تجویـز کیا کہ معاشرے میں پائی جانے والی ایسی غلط روایات کے خاتمے کے لیے قانون سازی ضروری ہے اور ان کا سنہ دو ہزار آٹھ سے یہ بل زیر التوٰ ہے۔ ان کے بقول مندرجہ بالا معاملات میں خواتین ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاسکے گا اور خواتین کے خلاف ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ سات سال سزا ملنی چاہیے۔

خواتین کے خلاف ایسے جرائم کےملزمان کی ضمانت نہیں ہوسکےگی اور صدرِ پاکستان کو ایسے جرائم میں سزا یافتہ ملزمان کی سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔

دونیہ عزیز کے اس مجوزہ قانون میں پیپلز پارٹی کی سابقہ رکن جسٹس (ر) فخرالنساء کھوکھر نے ترامیم پیش کیں کہ صدرِ مملکت کو سزا معاف کرنے کا اختیار آئین دیتا ہے اور اس سادہ قانون سے صدر کا وہ اختیار ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بعض ترامیم مسترد کردی گئیں لیکن ایک موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رکن ایاز امیر نے احتجاج کیا کہ اِن ترامیم کی کاپی انہیں مہیا نہیں کی جاتی اور وہ اپنی رائے دینے نہیں دے سکتے اور اس طرح ایوان کی کارروائی نہیں چلنی چاہیے۔

جس کے بعد پہلی بار ایک ہی وقت میں قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے بیرون ملک دوروں پر ہونے کی وجہ سے اجلاس کی صدرات کرنے والے ندیم افضل چن نے اچانک بل کی منظوری کا عمل روکتے ہوئے کہا کہ اس پر غور ملتوی کیا جاتا ہے۔

جس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت سے ناراض سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئین کے مطابق پاکستان میں دوہری شہریت رکھنے والا شخص پارلیمان کا رکن بننے کا اہل نہیں ہے اور یہ آئینی خلاف ورزی روکنا چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو ایسے اراکین کی نا اہلی کے لیے ریفرنس بھیجیں۔ جس پر مسلم لیگ (ن) والوں نے ڈیسک بجائے۔

وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے انہیں کہا کہ اس بارے میں قوائد کے مطابق معاملہ اٹھایا جائے تو حکومت جواب دے گی۔ جبکہ ایک اور وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کے پاس ہے اور جس کو بھی کوئی مسئلہ ہے وہ عدالت اعظمیٰ سے رجوع کریں۔

جس کے بعد اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سات رپورٹس پیش کیں اور ایوان کو بتایا کہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تین برس کی مدت میں ایک سو پندرہ ارب روپے وصول کرکےخزانے میں جمع کرائے ہیں۔

خلاف توقع ان کی مختصر تقریر کے بعد اپوزیشن، حکومت اور حتیٰ کہ متحدہ قومی موومنٹ نے بھی چوہدری نثار علی خان کو مبارکباد دیتے ہوئے خراج پیش کیا۔ لیکن فوزیہ وہاب اور مہرین انور راجہ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے چوہدری نثار کی تعریف کے ساتھ ساتھ یہ صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کی بھی تعریف کی کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر کو انہوں نے لگایا اور اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ پارلیمان با اختیار ہے۔

انہوں نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے اور مسلم لیگ (ن) سمیت کسی کو قبل از وقت انتخابات کرنے، پارلیمان توڑنے یا اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے جس سے جمہوری تسلسل ٹوٹے۔