کئی علاقوں میں لشکر کے مثبت نتائج: فوج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شدت پسندوں کے خلاف بنائے گئے طالبان مخالف لشکروں کو مذید مضبوط بنانے کی ضروت ہے: کور کمانڈر پشاور

پاکستان فوج نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کے مختلف حِصوں میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور کئی علاقوں میں امن لشکر کے بھی مُثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

یہ بات کور کمانڈر پشاور جنرل آصف یاسین ملک نے ایف ار جواکئی کوہاٹ میں امن لشکر کے رضاکاروں اور قبائلی عمائدین سے ایک مختصر خطاب کے دوران بتائی۔

انہوں نے کہا کہ مختلف قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جن میں کئی مقامات کو شدت پسندوں سے صاف کردیاگیا ہے اور جہاں اب حکومت کی عملداری بحال کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف بنائے گئے طالبان مخالف لشکروں کو مزید مضبوط بنانے کی ضروت ہے۔ ان کے مطابق قبائلی عمائدین اور امن لشکر کے رضاکاروں کو اپنے درمیان مضبوط اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے امن لشکر اور قبائلی عمائدین پر زور دیا کہ وہ علاقے میں شدت پسندوں کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع نہ دیں کیونکہ ان کے بقول فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسند تنظمیں اتنی کمزور ہوچکی ہیں کہ اب وہ آخری ہچکیاں لے رہی ہیں۔

اس موقع پر جواکئی امن لشکر کے سربراہ نائب خان نے کور کمانڈر کو بتایا کہ لشکر کے رضاکار عسکریت پسندوں کے خلاف کئی سالوں سے لڑ رہے ہیں جس میں درجنوں رضاکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان مخالف رضاکاروں کے کئی درجن مکانات شدت پسندوں کے حملوں میں تباہ ہوچکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ان حملوں سے خوف زدہ نہیں بلکہ وہ اب بھی شدت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے کمربستہ ہیں۔

تاہم لشکر کے سربراہ نے مطالبہ کیا کہ شدت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے ان کو اسلحہ، گاڑیاں اور پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور جس کے لیے انھیں فوج کا تعاون درکار ہوگا۔

تاہم کور کمانڈر نے امن لشکر کے سربراہ کی طرف سے کیے گئے مطالبے کے جواب میں کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن لشکروں کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں ہیں اور ان کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ امن لشکر کے مطالبات پر ضرور اعلیٰ سطح پر غور کیا جائے گا۔

کور کمانڈر نے بعد میں جواکئی کے مختلف علاقوں میں خاصہ دار فورس کی چیک پوسٹوں کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر علاقے میں سکیورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ جواکئی کوہاٹ شہر سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور شمال مشرق کی جانب ایک نیم قبائلی علاقہ ہے جس کی سرحدیں ایک اور نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل سے ملتی ہیں۔

خیال رہے کہ جواکئی کے علاقے میں طالبان نے حال ہی میں امن لشکر اور قبائلی عمائدین کے سینکڑوں مکانات کو دھماکوں میں نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں حکومتی حامی ملکان اور قبائلی سردار بھی شدت پسندوں کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں جبکہ درجنوں سکول، ہسپتال اور پُلوں کے علاوہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اسی بارے میں