ویج بورڈ ایوارڈ، ملازمین کے حق میں فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپریم کورٹ نے اخباری صنعت سے منسلک ملازمین کے لیے ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ پر عمل درآمد کے سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اخباری مالکان کو اس پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

ساتواں ویج بورڈ ایوارڈ کا اعلان اکتوبر سنہ دو ہزار ایک میں کیا گیا تھا جس کے خلاف اخباری مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے اس ایورڈ کو نافذ کرنے کے بارے میں ہدایات جاری کی تھیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اے پی این ایس نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے جُرمانے کے ساتھ مسترد کردیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کے روز اس درخواست پر فیصلہ سُنایا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ویج بورڈ ایوارڈ آئین اور قانون سے متصادم نہیں ہے اس لیے اس پر فوری عمل درآمد کیا جائے اور صحافیوں کو ویج بورڈ ایوارڈ دیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ بورڈ خود اس ایورڈ میں ترمیم کرنا چاہے تو اُسے یہ اختیار حاصل ہے۔

درخواست گُزاروں کے وکلاء نے اپنے دلائل میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس سے پہلے جو ویج بورڈ ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا وہ پانچ سال تک کے لیے تھا اب اس ساتویں ویج بورڈ ایورڈ کو دس سال کا عرصہ ہونے کو ہے اس لیے اس ویج بورڈ ایوراڈ کو غیر موثر قرار دیا جائے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ان دلائل سے اتفاق نہیں کیا۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد اخباری ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی جبکہ نجی ٹی وی چینلز نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کوئی خاطر خواہ کوریج نہیں دی جبکہ سرکاری ٹی وی چینل سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو نمایاں کوریج دی۔

حکومت کی زیر نگرانی چلنے والے اداروں یعنی پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان پرویج بورڈ ایورڈ نافذ العمل نہیں ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر صحافیوں کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کارکن صحافیوں کے حق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی ہے۔