قذافی ہلاکت سے تاریک باب کا خاتمہ، عالمی رد عمل

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی وزیر اعٌم نے کہا کہ ’برطانیہ لیبیا کی مدد جاری رکھے گا‘

لیبیا کے معذول رہنما کرنل قذافی کی ہلاکت کو عالمی رہنما اس ملک کے ایک جابرانہ اور تاریک باب کا خاتمہ قرار دے رہے ہیں۔

کرنل معمر قذافی کو جمعرات 20 اکتوبر کو ان کے آبائی شہر سرت میں عبوری قومی کونسل (این ٹی سی) کے جنگجوؤں نے پکڑ لیا تھا۔ کئی گھنٹے بعد بعد این ٹی سی کے اعلی اہلکاروں ے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کرنل قدافی کی ہلاکت سے لیبیا کے لوگوں کے لیے ایک دردناک دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ چار عشروں پر محیط کرنل قذافی کا دور ختم ہوگیا ہے اور اب لیبیا کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو جمہوری بنیادوں پر استوار کریں۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو نے لیبیا میں جو کچھ کیا ہے اس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو نے لیبیا کے لوگوں کو موقع مہیا کر دیا کہ وہ اپنے ملک میں جمہوری قدروں کو پروان چڑھائیں

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کرنل قدافی کی ہلاکت پر کہا کہ اب وقت ہے ان افراد کو یاد کرنے کا جو معمر قذافی کی جابرانہ حکومت کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ برطانیہ نے لیبیا کی جمہوریت کی جانب سفر میں اس کی مدد کی اور انہوں نے اس جدوجہد میں شریک لیبیا کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کی۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ لیبیا کی مدد جاری رکھے گا۔

فرانس کے وزیر خارجہ ایلین ژوپ نے کرنل قذافی کی ہلاکت کو ’لیبیا میں بیالیس سال کی آمریت کا خاتمہ‘ قرار دیا۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ ہلاکت لیبیا کے عوام کے لیے ایک آمرانہ اور جابرانہ دور کا خاتمہ ہے۔

یورپی یونین کے صدر ہیرمان وان رومپوئی اور یورپی کمیشن کے صدر ژوسے مانیویل باروسو نے لیبیا کی عبوری قومی کونسل سے کہا ہے کہ اب یہ وقت مفاہمت اور ایک جمہوری اور پُر امن عبوری دور کا ہے۔

یورپی پارلیمان کے صدر جیری بوزیک سنیچر کو لیبیا پہنچ رہے ہیں۔

امریکہ میں ریپبلکن جماعت کے سینیٹر جان مکین نے کرنل قذافی کی ہلاکت کی خبروں کے بارے میں کہا کہ ’یہ لیبیا کے انقلاب کا پہلا مرحلہ ہے۔‘

اسی بارے میں