’پاکستانی قیدیوں سے بگرام میں ملاقات کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کی وزارت خارجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ افغانستان میں بگرام ائیر بیس پر جاکر وہاں غیرقانونی طور پر قید سات پاکستانیوں سے بات چیت کریں اور ان کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرے تاکہ ان قیدیوں کے وکلا ان کی ہائی کے لیےامریکی حکام کے سامنے پیروی کرسکیں۔

لاہورہائی کورٹ کے جج جسٹس خالد محمود خان نے یہ حکم افغانستان میں قید سات پاکستانیوں کی رہائی کے لیے دائر ایک درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے دیا۔

جسٹس خالد محمود خان نے پاکستان کی وزارت خارجہ کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ افغانستان کی جیل میں قید سات پاکستانی کے بارے میں جو کوائف اکٹھے کریں ان میں یہ معلومات بھی شامل ہوں کہ ان افراد کو کن حالات میں حراست میں لیا گیا ہے اور اب یہ لوگ کس جرم میں وہاں قید ہیں۔

ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو یہ تمام معلومات اکٹھی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی ہے اور ہدایت کی کہ اس بابت ایک تفصیلی رپورٹ عدالت میں داخل کی جائے۔

سماعت کے دوران جسٹس خالد محمود خان نے سرکاری وکیل سے کہا کہ افغانستان سے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے صرف چٹھی لکھنا کافی نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں مزید اقدامات ہونے چاہیں۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ یہ درخواست پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے بیرسٹر سارہ بلال کے توسط سے دائر کی تھی اور یہ درخواست ایک سال سے زیادہ عرصہ تک زیر سماعت رہی۔

درخواست گزار تنظیم کی وکیل بیرسٹر سارہ بلال نے عدالت کے روبرو یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے سات افراد افغانستان کی جیل میں قید ہیں اور ان افراد کا نہ تو غیر معینہ مدت سے کوئی ٹرائل ہوا ہے اور نہ ان کو ان کے وکلا تک رسائی حاصل ہے جو بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ بگرام میں قید پاکستانیوں کو واپس لایا جائے۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل ملک کرامت علی اعوان نے جہاں یہ عدالت کو یہ بتایا تھا کہ ان افراد کی وطن واپسی کے لیے سفارتی سطح پر کوشش جاری ہیں وہیں سرکاری نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ یہ درخواست متاثر خاندان کے کسی فرد نہیں دائر نہیں کی ہے اور درخواست گزار متاثر فریق نہیں ہے اس لیے انہیں یہ درخواست دائر کرنے کا استحقاق نہیں ہے لہذا یہ درخواست قابل پیش رفت نہیں ہے۔